مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 206
مکتوبات احمد ۲۰۶ جلد دوم اخلاص سے دور ہے جو آپ سے ظاہر ہوتا رہا۔ ہمارا تو مذہب ہے کہ اگر ایک مرتبہ نہیں کروڑ مرتبہ لوگ پیش گوئی نہ سمجھیں ۔ یا اس رات کے طور پر ظاہر ہو تو خدا تعالیٰ کے صادق بندوں کا کچھ بھی نقصان نہیں ۔ آخر وہ فتح یاب ہو جاتے ہیں ۔ میں نے اس فتح کے بارے میں لاہور پانچ ہزار اشتہار چھپوایا ہے اور ایک رسالہ تالیف کیا ہے۔ جس کا نام انوار الاسلام ہے ۔ وہ بھی پانچ ہزار چھپے گا ۔ آپ ضرور اشتہار اور رسالہ کو غور سے پڑھیں ۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو آپ کو اس سے فائدہ ہوگا ۔ ایک ہی وقت میں اور ایک ہی ڈاک میں آپ کا خط اور حضرت مولوی نورالدین صاحب کا خط پہنچا۔ مولوی صاحب کا اس صدق اور ثبات کا خط جس کو پڑھ کر رونا آتا تھا۔ ایسے آدمی ہیں جن کی نسبت میں یقین رکھتا ہوں کہ اس جہاں میں بھی میرے ساتھ ہوں گے اور اُس جہاں میں بھی میرے ساتھ ہوں گے۔ خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ نوٹ : ۔ اس خط پر کوئی تاریخ نہیں اور لفافہ بھی محفوظ نہیں ۔ تاہم خط کے مضمون سے ظاہر ہے کہ ستمبر ۱۸۹۴ء کا خط ہے۔ حضرت نواب صاحب نے جس جرات اور دلیری سے اپنے شکوک کو پیش کیا ہے ۔ اس سے حضرت نواب صاحب کی ایمانی اور اخلاقی جرات کا پتہ لگتا ہے۔ انہوں نے کسی چیز کو اندھی تقلید کے طور پر مانا نہیں چاہا۔ جو شبہ پیدا ہوا اس کو پیش کر دیا۔ خدائے تعالیٰ نے جو ایمان انہیں دیا ہے وہ قابل رشک ہے۔ خدا تعالیٰ نے اس کا اجر انہیں یہ دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نسبت فرزندی کی عزت نصیب ہوئی ۔ یہ موقعہ نہیں کہ حضرت نواب صاحب کی قربانیوں کا میں ذکر کروں جو انہوں نے سلسلہ کے لئے کی تھیں ۔ بہت ہیں جن کے دل میں شبہات پیدا ہوتے ہیں اور وہ ان کو اخلاقی جرات کی کمی کی وجہ سے اُگل نہیں سکتے ۔ مگر نواب صاحب کو خدا تعالیٰ نے قابل رشک ایمانی قوت اور ایمانی جرأت عطا کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مرتبہ فرمایا تھا کہ اگر کسی شخص کے دل میں کوئی شبہ پیدا ہو تو اسے قے کی طرح باہر نکال دینا چاہئے اگر اسے پیدا