مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 159
مکتوبات احمد ۱۵۹ جلد دوم خدائے تعالیٰ کے حضور میں دعا کرو۔ کہ اے رب العالمین ! تیرے احسان کا میں شکر نہیں کر سکتا ۔ تو نہایت رحیم و کریم ہے اور تیرے بے نہایت مجھ پر احسان ہیں ۔ میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں ۔ میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہوا اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا ، جن سے تو راضی ہو جاوے۔ میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔ رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ آمین ثم آمین ۔ آپ کی اس بیعت کی کسی کو خبر نہیں دی گئی اور بغیر آپ کی اجازت کے نہیں دی جائے گی۔ لیکن مناسب ہے کہ اس اخفا کو صرف اسی وقت تک رکھیں کہ جب تک کوئی اشد مصلحت در پیش ہو۔ کیونکہ اخفا میں ایک قسم کا ضعف ہے اور نیز اظہار سے گو یا فعلاً نصیحت للخلق ہے۔ لله آپ کے اظہار سے ایک گروہ کو فائدہ دین پہنچتا ہے اور رغبت الی الخیر پیدا ہوتی ہے۔ خدائے تعالیٰ ہر ایک کام میں مددگار ہو کہ بغیر اس کی مدد کے انسانی طاقتیں بیچ ہیں ۔ والسلام حمید خاکسار مرزاغلام احمد نوٹ : ۔ اس خط کی تاریخ تو معلوم نہیں ۔ لیکن واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے نواب صاحب کو بیعت کی تحریک فرمائی تھی ۔ مگر اس وقت وہ اس کے لئے تیار نہ تھے اور اپنی جگہ بعض شکوک ایسے رکھے تھے جو مزید اطمینان کے لئے رفع کرنے ضروری تھے۔ جب وہ شکوک رفع ہوئے تو انہوں نے تامل نہیں کیا ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں نواب صاحب کے ایک خط کا اقتباس دیا ہے ۔ اس میں لکھا ہے کہ ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا۔ لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے مؤید نہیں ہیں ۔ بلکہ مخالفین اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں ۔ مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ الحکم ۷ ارجون ۱۹۰۱ء صفحه ۳