مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 156

مکتوبات احمد ۱۵۶ جلد دوم کہتے ہیں کہ مثلاً حضرت علیؓ کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے اور امام حسین کے حق میں یہ فرمایا ہے مگر یہ خیال کہ کیونکر اعلیٰ درجہ کی ارادت و محبت کسی کی نسبت پیدا کی جائے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ در حقیقت طبعی اور حقیقی طور پر جو اعلیٰ درجہ کی ارادت اور فرمانبرداری بغیر پوری آزمائش کے نہیں ہو سکتی مگر طالب حق اللہ جل شانہ کی توفیق سے کسی قدر قرائن سے یہ تکلف ارادت مندوں کا پیراہن پہن لیتا ہے پھر عنایت الہی سے بمشاہدہ برکات حق وہ تکلف طبیعت میں داخل ہو جاتا ہے۔ صحابہ اور اہلِ بیت بھی آہستہ آہستہ مراتب عرفان کو پہنچے ہیں مگر روز ازل سے انہوں نے وہ خدمات اپنے ذمہ لیں جو بجز کامل ارادت کے ظہور میں نہیں آسکتیں اور پھر غایت درجہ کی دشمنی پر اور جو مرد مقبول کی کرامات کا ظہور ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب دشمن نادان ایک ولی اللہ سے عداوت شروع کرتا ہے اور ہر وقت قول یا فعل سے اس کے در پے آزار رہتا ہے تو آخر ایک دن غیرت الہی جوش مارتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ عَادَى اَوْلِيَائى فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ اِس لئے یہ اصول نہایت صحیح ہے کہ جس کو کرامات کے دیکھنے کا شوق ہو وہ یا تو غایت درجہ کا دوست ہو جائے یا غایت درجہ کا دشمن کرامات بازیچہ اطفال نہیں ہے کہ خواہ نخواہ کھیل کی طرح دکھلائی جائیں ۔ اللہ جل شانہ اور اس کے وفادار بندے غیر اللہ سے لا پرواہ ہیں اور خواہ نخواہ بازیگروں کی طرح کرشمہ نمائی ان کی عادت نہیں اگر چہ اولیاء اللہ پر کرامات الہی بارش کی طرح برستی ہیں لیکن غیر جب تک کہ پورا دوست یا پورا دشمن نہ ہوان انوار کے مشاہدہ سے بے نصیب رہتا ہے اس عاجز نے جو سولہ ہزار اشتہارات کرامت نمائی کے لئے شائع کیا تھا اور شرط کی تھی کہ اگر کوئی مخالف منکر کرامات ہو تو ایک برس تک ہمارے دروازہ پر آکر بیٹھے۔ اس کا ہرجہ دیا جائے گا اس اشتہار سے اللہ جل شانہ کی غرض یہی تھی کہ اس پابندی سے وہی شخص آکر ایک سال تک بیٹھے گا جو تمہارا دشمن ہوگا۔ (۶) اس میں شک نہیں ہے اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ یہ عاجز نبیوں کی طرح اصلاح خلق اللہ کے لئے مامور ہو کر آیا ہے اور دل میں بہت خواہش ہے کہ وہ کرامات الہی جو یہ عاجز دیکھ رہا ہے لوگ بھی دیکھیں لیکن خدا تعالیٰ اپنے قانون قدیم سے تجاوز نہیں کرتا دوست کامل بننا چاہئے یا دشمن کامل ۔ تا آسمانی نشان ظاہر ہوں ہاں ایک طریق ہے اور اس کو آپ ہی بجالا سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آپ کا اب تک عقیدہ یہ ہے کہ بارہ اماموں کو جس قدر فضیلت ہے وہ اصحاب کبار کو حاصل نہیں ۔