مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 155 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 155

مکتوبات احمد ۱۵۵ جلد دوم ڈالتے ہیں یں۔ ۔ عوام جلدی سے سے سیکو کسی کو کافر کافر اور اور کسی کو بے بے دین کہہ دیتے ہیں اور اور محققین اس اسکی کی ذرا پر پرواہ نہیں کرتے ۔ اگر ہم صدیقی اور فاروقی خدمات کو جو اپنی زندگی میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کیں لکھیں تو بلا شبہ وہ ایک دفتر میں بھی ختم نہیں ہو سکتیں۔ لیکن اگر ہم امام حسین رضی اللہ عنہ کی خدمات کو لکھنا چاہیں تو کیا ان دو تین فقروں کے سوا کہ وہ انکار بیعت کی وجہ سے کربلا کے میدان میں روکے گئے اور شہید کئے گئے ۔ کچھ اور بھی لکھ سکتے ہیں ؟ بیشک یہ کام ایسا عمدہ ہوا کہ ایک فاسق دنیا دار کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت نہیں کی ۔ مگر اعتراض تو یہ ہے کہ وہ اپنے باپ بزرگوار کے قدم پر کیوں نہ چلے ۔ باپ نے تو بقول شیعوں کے تین فاسق آدمیوں کے ہاتھ پر جو بزعم ان کے مرتد سے بدتر تھے اور بقول ان کے صرف معمولی بادشاہوں میں سے تھے، بیعت کر لی اور بیٹے نے تو اپنے باپ کے طریق سے اعراض کر کے ایک فاسق کی بیعت بھی نہیں کی اور انکار ہی میں جان دی ۔ بہر حال یہ اتفاقی حادثہ تھا جو امام صاحب کو پیش آ گیا اور بڑا بھاری ذخیرہ ان کے درجہ کا صرف یہی ایک حادثہ ہے جس کو محض غلو اور نا انصافی کی راہ سے آسمان تک کھینچا جاتا ہے اور وہ بزرگوار صحابہ جو رسولوں کی طرح دنیا میں کام کر گئے اور ہر میدان میں جان فدا کرنے کے لئے حاضر ہوئے ان سے بقول آپ کے لاپر واہی تو آپ کا طریق ہے ۔ یہ یہ فیصلہ تو آسانی سے ہو سکتا ہے چونکہ دنیا ا دارا دار العمل ہے اور میدان حشر میں مراتب بلحاظ اعمال ملیں ظ اعمال ملیں گے ۔ پس جس کے دل میں امام حسن وحسین کی وہ عظمت ہے کہ اب وہ دوسرے صحابہ سے لا پرواہ ہے اس کو چاہئے کہ ان کی خدمات شائستہ دین کی راہیں پیش کرے اگر ان کی خدمات کا پلہ بھاری ہے تو بلا شبہ وہ دوسرے صحابہ سے افضل ٹھہریں گے ورنہ ہم اس بات کے تو قائل نہیں ہو سکتے کہ خواہ مخواہ کسی کو افضل ٹھہرایا جاوے ۔ اور یہ خیال کرنا کہ ان کی فضیلت یہی کافی ہے کہ وہ نواسے تھے یہ خیال کوئی عقلمند نہیں کر سکتا ۔ کیونکہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں کہ نواسہ ہونا کچھ بھی چیز نہیں ایک ذرا سا رشتہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کئی لڑکیاں تھیں اور نواسے بھی کئی تھے کس کس کی ہم پرستش کریں یہ آیت کریمہ ہمارے لئے کافی ہے إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتَّقُكُمْ ' مجھے اللہ جل شانہ نے کھول دیا ہے کہ اس زمانہ کا انتقا صدیق اکبر ہے بعض لوگوں کو یہ بھی دھو کہ لگا ہوا ہے کہ وہ مناقب کسی بزرگ کے پیش کر دیا کرتے ہیں یعنی الحجرات : ۱۴