مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 130

مکتوبات احمد ۱۳۰ جلد دوم اپنے لئے اور نیز آں مکرم کے لئے دعا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہماری نسل اور ذریت میں سے بھی اپنے دین کے خادم اور اپنی راہ کے سچے جانثار پیدا کرے ۔ یہ دعا اس عاجز کی اپنے لئے اور آپ کے لئے اور ۔۔۔ کے لئے اور ہر ایک دوست کے لئے ہے لیکن ابنائے روزگار کی رسم و عادت کے طور پر خواہشمند اولاد ہونا اور یہ خیال رکھنا کہ ہماری موت فوت کے بعد ہمارے زخارف دنیا کی ہماری اولا دوارث بنے اور سرکار ہماری جائداد پر قابض نہ ہونے پائے بلکہ ہمارے بیٹے ہمارے ترکہ پر قبضہ کریں اور شریکوں سے لڑتے جھگڑتے رہیں اور ہمارے مرنے کے بعد دنیا میں ہماری یاد گار رہ جاوے۔ یہ خیال سراسر شرک ہے اور فساد اور سخت معصیت سے بھرا ہوا ہے۔ اور میں جانتا ہوں کہ جب تک یہ خیال دل میں سے دور نہ ہولے کوئی شخص سچا موحد اور سچا مسلمان نہیں ہو سکتا ۔ ہمیں ہر روز خدا تعالیٰ کی طرف قدم بڑھانا چاہیے اور جن امور کو وہ فتنہ قرار دیوے بغیر تحقیق صحت نیت کے ان کو اپنی درخواست سے اپنے پر بلا نازل کرنا نہیں چاہیے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے ہو جاتا ہے وہ اس کے اندرونی پاک جوشوں اور مطہر جذبات کو خوب جانتا ہے بلکہ درحقیقت پاک دل انسان کے اندرونی جوش اسی کی طرف سے ہوتے ہیں اور پھر وہ خود انہیں پورا بھی کر دیتا ہے جس وقت وہ دیکھتا ہے کہ ایک الہی حالت کا آدمی اس کے دین کی خدمت کے لئے اپنا کوئی وارث چاہتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کو ضرور کوئی وارث عنایت کرتا ہے ۔ اس کی دعائیں پہلے ہی سے قبول شدہ کے حکم میں ہوتی ہیں۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو اس حالت سے اور اس کے نتائج سے تمتع کامل عطا فرماوے اور کسی جگہ مکان بنانے کی نسبت یہ عاجز ارادہ الہی کی طرف دیکھ رہا ہے اس لئے ابھی کوئی بات منہ پر نہیں لاسکتا لیکن اس عاجز کی دلی منشاء ہے۔ آں مکرم کا اس بات میں ترڈ د ہے کہ یہ عاجز اور آں مکرم بقیہ زندگی ایک جگہ بسر کریں ۔ سو یہ عاجز دعا میں مشغول ہے امید کہ اللہ جل شانہ کوئی ایسی راہ پیدا کر دے گا جو کہ خیر و برکت سے معمور ہو گی ۔ زیادہ خیریت ہے ۔ یہ والسلام ۲۷ نومبر ۱۸۹۱ء راقم خاکسار غلام احمد از قادیان تشحید الا ذہان جون ۱۹۰۷ ء صفحہ ۲۵، ۲۶