مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 129

مکتوبات احمد ۱۲۹ جلد دوم مکتوب نمبر ۹۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مخدومی و مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ اللہ تعالی ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامه مع پارسل ادویہ پہنچا۔ جزاکم الله خير الجزاء امید کہ انشاء اللہ القدیر دوائی مجوزہ آن مکرم شروع کروں گا ۔ ہنوز میری حالت شدت خارش کی بدستور ہے جو زخم ہو جاتا ہے وہ مشکل سے بھرتا ہے۔ درد شدید اور جریان اور سوزش اور جلن ایسی مدام حال رہتی ہے کہ مجھ سے کوئی کام نہیں ہو سکتا ۔ اللہ جل شانہ کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ۔ میرا ارادہ تھا کہ امرتسر، کپورتھلہ ، سیالکوٹ ایک مرتبہ دیکھ آؤں لیکن اس مرض کے سبب سے میری حالت سفر کے لائق ہرگز نہیں ۔ شیخ بٹالوی اپنے فتنہ انگیزی میں اب تک سست اور کاہل نہیں ہوئے اور اپنے تمام جذبات نفسانی اسی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان مولویوں کے ذریعہ تحریک منظور ہے اور چاہتا ہے کہ جلدی اپنے کام کو دنیا میں پھیلا دے کیونکہ بغیر اطلاع یابی کے کوئی شخص طلب کے لئے قدم نہیں اُٹھا سکتا کا جموں تشریف لا نا معلوم ہوا اگر چہ اس دارالابتلاء میں خدا تعالیٰ نے اولا دکو بھی فتنہ میں ہی داخل رکھا ہے جیسا کہ اموال کو لیکن اگر کوئی شخص صحت نیت کی بناء پر محض اس غرض سے اور سراسر اس وجہ سے فکر سے طالب اولاد ہو کہ تا اس کے بعد اس کی ذریت میں سے کوئی خادم دین پیدا ہو جس کے وجود سے اس کے باپ کو بھی دوبارہ ثواب آخرت کا حصہ ملے تو خاص اس نیت اور اس جوش سے اولاد کا خواہشمند ہونا نہ صرف جائز بلکہ اعلیٰ درجہ کے اعمال صالحہ میں سے ہے جیسا کہ اس خواہش کی تحریک اس آیت کریمہ میں بھی پائی جاتی ہے اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا لے لیکن سچ سچ اور واقعی اور حقیقی طور پر بھی جوش پیدا ہونا اور اس جذبے کی بنا پر اولاد کا خواہشمند ہونا ان ابرار و اخبار و اتقیا کا کام ہے جو اپنے اعمال خیر کے آثار باقیہ دنیا میں چھوڑ جانا چاہتی ہیں ۔ جہاں تک تجربہ کیا گیا ہے بیشک ایک خادم دین ہیں خدا تعالیٰ ان کو اس نیت اور اس جوش میں پورے طور پر مکمل کر کے ان کی مرادات ان کو عطا فرماوے۔ اور یہ عاجز بھی بجوش دل ا الفرقان : ۷۵