مکتوبات احمد (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 662

مکتوبات احمد (جلد دوم) — Page 103

مکتوبات احمد ۱۰۳ جلد دوم ایک دن بعض شریر لوگوں نے سخت غم میں مجھے ڈال دیا کہ مولوی غلام علی صاحب کا انتقال ہو گیا ہے پھر فتح محمد کے خط آنے پر تسلی ہوئی ۔ ۹ رفروری ۱۸۹۱ء والسلام غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر ۶۹ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ آں مخدوم کے دو ورقہ کے انتظار ہے تا رسالہ ازالہ اوہام کا خاتمہ طبع ہو کر شائع کیا جائے ۔ امرتسر کے غزنوی مولوی صاحبوں نے ، سنا گیا ہے کہ بہت شور کیا ہے ۔ یہ بھی خبر سنی ہے کہ مولوی عبد الرحمن لکھو کے والے مولوی محمد صاحب کے جو صاحبزادہ ہیں انہوں نے کچھ اپنے الہامات لکھ کر بجواب خط اخویم عبد الواحد صاحب جموں روانہ کئے ہیں ۔ حامد علی ان الہامات کو سن آیا ہے ۔ مگر وہ اس کو یا دنہیں رہے ۔ ایسے الفاظ ان میں ہیں کہ ضلوا واضلّوا ۔ اگر عبد الواحد صاحب نے آں مخدوم کو ان سے اطلاع دی ہو تو مطلع فرماویں۔ چند روز سے نواب محمد علی خاں صاحب رئیس کو ٹلہ قادیان میں آئے ہوئے ہیں ۔ جوان صالح الخيال مستقل آدمی ہے ۔ انٹرس تک تحصیل انگریزی بھی ہے ۔ میرے رسالوں کو دیکھنے سے کچھ شک و شبہ نہیں کیا بلکہ قوت ایمانی میں ترقی کی ۔ حالانکہ وہ دراصل شیعہ مذہب ہیں مگر شیعوں کے تمام فضول اور ناجائز اقوال سے دست بردار ہو گئے ہیں ۔ صحابہ کی نسبت اعتقاد نیک رکھتے ہیں ۔ شاید دو روز تک اور اسی جگہ ٹھہریں۔ مرزا خدا بخش صاحب ان کے ساتھ ہیں ۔ الحمد للہ اس شخص کو خوب مستقل پایا اور دلی طبع آدمی ہے۔ شہاب الدین کی نسبت کیا تجویز ہے؟ یہ عاجز دس روز تک لودہا نہ جانے والا ہے۔ میرے ساتھ بعض تعلق رکھنے والے رسالوں کو پڑھ کر بڑی استقامت ظاہر کر رہے ہیں۔ اس وقت مجھے یہ تمام لوگ اس الہام کا مصداق ٹھہرا ۔ راتے ہیں جو صد ہا مرتبہ ہو چکا ہے یعنی یہ کہ يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ