مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 68
مکتوبات احمد ٦٨ جلد اول جاتا ۔ مگر یہ بات کس قدر دیانت اور انصاف سے بعید ہے کہ آپ دور بیٹھے قادیان کے آریوں پر ایسی تہمت لگا رہے ہیں ۔ ذرا آپ سوچیں کہ جس حالت میں میں نے اُنہیں آریوں کا نام حصہ سوم و چہارم میں لکھ کر اُن کا شاہد خوارق ہونا حصص مذکورہ میں درج کر کے لاکھوں آدمیوں میں اس واقعہ کی اشاعت کی ہے تو پھر اگر یہ باتیں دروغ بے فروغ ہوں تو کیونکر وہ لوگ اب تک خاموش رہتے بلکہ ضرور تھا کہ اس صریح جھوٹ کے رڈ کرنے کے لئے کئی اخباروں میں اصل کیفیت چھپواتے اور مجھ کو ایک دنیا میں رسوا اور شرمندہ کرتے۔ سو منصف آدمی سمجھ سکتا ہے کہ وہ لوگ باوجود شدت مخالفت اور عناد کے اسی وجہ سے خاموش اور لاجواب رہے کہ جو جو میں نے شہادتیں اُن کی نسبت لکھیں وہ حق محض تھا۔ اور آپ پر لازم ہے کہ آپ اس ظن فاسد سے مخلصی حاصل کرنے کے لئے قادیان آ کر اس بات کی تصدیق کر جائیں ۔ تا سیه رو جواب سے جلد تر مطلع کریں ۔ والدعاء شود که در وغش باشد راقم مرزا غلام احمد از قادیان ۱۶ را پریل ۱۸۸۵ء