مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 67 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 67

مکتوبات احمد ۶۷ جلد اول دوسو روپیہ ماہواری کا ہرج متصور ہے اور اسی غرض سے خطوط مطبوعہ میں یہ بھی اندراج پایا کہ اگر دوسو روپیہ ماہواری کسی صاحب کی حیثیت دنیوی سے کم ہو۔ تو جہاں تک ممکن ہو ان کو دوسو روپیہ ماہوار سے کچھ زیادہ دیا جائے گا۔ اب آپ جو تحریر فرماتے ہیں کہ وہ دوسو روپیہ کہ جو اعلیٰ درجہ کے لوگوں کیلئے بہ لحاظ حیثیت دنیوی اُن کے مطبوعہ خطوط میں اندراج پایا ہے اُسی قدر روپیہ ملنے کی شرط سے میں قادیان میں آتا ہوں ۔ سو آپ خود انصاف فرما لیویں کہ آپ کیونکر اس قدر روپیہ پانے کی شرط کر سکتے ہیں ۔ ہاں اگر آپ کسی جگہ دو سو روپیہ ماہواری پاتے ہیں تو پھر اس صورت میں مجھے کسی طور سے عذر نہیں ہے۔ آپ مجھ پر یہ ثابت کر دیں کہ میں اسی حیثیت کا آدمی ہوں ۔ اگر ایسا ثابت نہ کر سکیں تو پھر آپ کے لئے یہ منظور کرتا ہوں کہ جس قدر آپ نوکری کی حالت میں تنخواہ پاتے رہے ہیں وہی تنخواہ حسب شرائط متذکرہ خطوط مطبوعہ آپ کو دوں گا ۔ لیکن آپ خود انصاف کر لیویں کہ جو تنخواہ اعلیٰ درجہ کے لوگوں کے لئے اُن کی ماہواری آمدنی کے لحاظ سے اور اُن کے ہرجہ کثیرہ کے خیال سے خطوط مطبوعہ میں لکھی گئی ہے وہ کیونکر اُن لوگوں کو دی جاوے جو اس درجہ کے آدمی نہیں ہیں۔ اور اگر ہر ایک ادنی اعلیٰ کے لئے دو سو روپیہ ماہواری دینا تجویز کروں تو اس قدر روپیہ کہاں سے لاؤں ۔ آپ تحکم کی راہ سے کلام نہ کریں ! ی راہ سے کلام نہ کریں اور جو میں نے خطوط کے چھاپنے کے وقت انتظام کیا ہے اُس کو خوب سوچ لیں ۔ اور میرے نزدیک بہتر یہ ہے کہ آپ دو تین روز کے لئے قادیان میں آجائیں اور بالمواجہ گفتگو کر کے اس بات کا تصفیہ کریں ۔ مجھے یہ بھی منظور ہے کہ دو تین شریف اور معزز آریہ جیسے منشی جیون داس لاہور میں ہیں وہ مجھ سے ملاقات کر کے جو اس بارہ میں تصفیہ کریں وہی قرار پا جائے ۔ میں ناحق کی ضد کرنا نہیں چاہتا نہ کوئی حیلہ بہانہ کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ غور سے خط کو پڑھیں اور یہ جو آپ نے اپنے خط کے اخیر پر لکھ دیا ہے کہ قادیان کے آر یہ لوگوں سے آپ کی کراماتی مایہ کی قلعی کھل چکی ہے ۔ یہ الفاظ بھی منصفین کے سامنے پیش کرنے کے لائق ہیں ۔ میرے ہیں جس حالت میں قادیان کے بعض آر یہ جو میرے پاس آمد و رفت رکھتے ہیں اب تک زندہ موجود ؟ اور اس عاجز کے نشانوں اور خوارق کے قائل اور مقر ہیں تو پھر نہ معلوم کہ آپ نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ وہ لوگ منکر ہیں ۔ اگر آپ راستی کے طالب تھے تو مناسب تھا کہ آپ قادیان میں آ کر میرے روبرو اور میرے مواجہ میں اُن لوگوں سے دریافت کرتے تا جو امر حق ہے آپ پر واضح ہو -