مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 63 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 63

مکتوبات احمد ۶۳ جلد اول کے کسی کو اُس کا وسیلہ مت سمجھ کہ وہ تجھ سے تیری رگ جان سے بھی زیادہ نزدیک تر ہے ۔ (۵) تو اس کو ایک سمجھ کہ جس کا کوئی ثانی نہیں ۔ تو اس کو قادر سمجھ جو کسی فعل قابل تعریف سے عاجز نہیں ۔ تو اُس کو رحیم اور فیاض سمجھ کہ جس کے رحم اور فیض پر کسی عامل کے عمل کو سبقت نہیں ۔ دوئم حالت موجودہ دنیا کی ۔مطابق گناہوں کے نسبت ۔ (1) تو سچ بول اور سچی گواہی دے اگر چہ اپنے حقیقی بھائی پر ہو یا باپ پر ہو یا ماں پر یا کسی اور پیارے پر ہوا اور حقانی طرف سے الگ مت ہو ۔ (۲) تو خون مت کر کیونکہ جس نے ایک بے گناہ کو مار ڈالا وہ ایسا ہے کہ جس نے سارے جہان کو قتل کر دیا۔ (۳) تو اولا دکشی اور دختر کشی مت کر ، تو اپنے نفس کو آپ قتل مت کر، تو کسی کافر و ظالم کا مددگارمت ہو، تو زنا مت کر۔ (۴) تو کوئی ایسا فعل مت کر جو دوسرے کا ناحق باعث آزار ہو۔ (۵) تو قمار بازی نہ کر ، تو شراب مت پی ، تو سو د مت لے اور جو اپنے لئے اچھا سمجھتا ہے وہی دوسرے کیلئے کر۔ (۶) تو نا محرم پر ہرگز آنکھ مت ڈال ، نہ شہوت سے، نہ خالی نظر سے کہ یہ تیرے لئے ٹھوکر کھانے کی جگہ ہے ۔ ہے۔ (۷) تم اپنی عورتوں کو میلوں اور محفلوں میں مت بھیجو اور اُن کو ایسے کاموں سے بچاؤ کہ جہاں وہ نگی نظر آئیں ۔ تم اپنی عورتوں کو زیور چھنکاتی ہوئی خوش اور پسند لباس کو چوں اور بازاروں اور میلوں کی سیر سے منع کرو اور اُن کو نامحرموں کی نظر بازی سے بچاتے رہو۔ تم اپنی عورتوں کو تعلیم دو اور دین اور عقل اور خدا ترسی میں اُن کو پختہ کرو اور اپنے لڑکوں کو علم پڑھاؤ۔ (۸) تو جب حاکم ہو کر کوئی مقدمہ کرے تو عدالت سے کر اور رشوت مت لے اور جب تو گواہ ہو کر پیش ہو تو سچی سچی گواہی دیدے اور جب تیرے نام حاکم کی طرف سے بغرض ادا کسی گواہی کے حکم طلبی کا صادر ہو تو خبر دار حاضر ہونے سے انکارمت کیجیئو اور عدول حکمی مت کریو ۔ (۹) تو خیانت مت کر، تو کم وزنی مت کر اور پورا پورا تول ، تو جنس ناقص کو عمدہ کی جگہ مت بیچ ، تو