مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 54

مکتوبات احمد ۵۴ جلد اول مکتوب نمبر ۱۰ اکبر آباد آریہ سماج کے ایک ممبر رام چرن نامی کے نام ایک سوال کا جواب جو بذریعہ اخبار عام مورخه ۱۰ مئی ۱۸۸۵ء میں دیا گیا ۔ ایڈیٹر ) آج ایک سوال از طرف رام چرن نامی جو آریہ سماج اکبر آباد کے ممبروں میں سے ہے میری نظر سے گزرا ۔ سو اگر چہ لغو اور بے حقیقت سوالات کی طرف متوجہ ہونا ناحق اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے لیکن ایک دوست کے الحاح اور اصرار سے لکھتا ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ خدا نے شیطان کو پیدا کر کے کیوں آپ ہی لوگوں کو گناہ اور گمراہی میں ڈالا ؟ کیا اُس کا یہ ارادہ تھا کہ لوگ ہمیشہ بدی میں مبتلا رہ کر کبھی نجات نہ پاویں ؟ ایسا سوال اُن لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے جنہوں نے کبھی غور اور فکر سے دینی معارف میں نظر نہیں کی یا جن کی نگاہیں خود ایسی پست ہیں کہ بجز نکتہ چینیوں کے اور کوئی حقیقت شناسی کی بات اور محققانہ صداقت ان کو نہیں سوجھتی ۔ اب واضح ہو کہ سائل کے اس سوال سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصولِ اسلام سے بکلی بیگانہ اور معارف ربانی سے سرا سرا جنبی ہے کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ شریعت اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ گویا شیطان صرف لوگوں کو بہکانے اور ورغلانے کے لئے خدا تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور اسی اپنے وسوسہ کو پختہ سمجھ کر تعلیم قرآنی پر اعتراض کرتا ہے۔ حالانکہ تعلیم قرآنی کا ہرگز یہ منشاء نہیں ہے اور نہ یہ بات کسی آیت کلام الہی سے نکلتی ہے بلکہ عقیدہ حقہ اہل اسلام جس کو حضرت خداوند کریم جل شانہ نے خود اپنے کلام پاک میں بیان کیا ہے یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے دونوں اسباب نیکی اور بدی کے مہیا کر کے اور ایک وجہ کا اُس کو اختیار دے کر قدرتی طور پر ہر دو قسم کے محرک اس کے لئے مقرر کئے ہیں ۔ ایک داعی خیر یعنی ملائکہ جو نیکی کی رغبت دل میں ڈالتے ہیں ۔ دوسرے داعی شریعنی شیطان جو بدی کی رغبت دل میں ڈالتا ہے۔ لیکن خدا نے داعی خیر کو غلبہ دیا ہے کہ اُس کی تائید میں عقل عطا کی اور اپنا کلام نازل کیا اور خوارق اور نشان ظاہر کئے اور ارتکاب جرائم پر سخت سخت سزائیں مقرر کیں ۔ سو خدا تعالیٰ نے انسان کو ہدایت پانے کے لئے کئی قسم کی روشنی عنایت کی اور خود اس کے دلی انصاف کو ہدایت کے قبول کرنے کے