مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 666
مکتوبات احمد ۶۶۶ جلد اول کبھی اپنی نرمی دکھاتا ہے اور کبھی تلخ اور شور اور بے مزہ کی صورت میں اور کبھی شیریں اور خوشگوار پانی کی شکل میں نظر آتا ہے اور کبھی طوفان کی طرح قوت غضبی کے زور سے بہتا ہے اور کبھی نہایت آہستگی اختیار کرتا ہے ۔ اس پانی کو جاہل خیال کرتا ہے کہ یہ نفسانی جذبات کا پانی ہے اور اہل اللہ کی شان عظیم سے منکر ہو جاتا ہے یا شک میں پڑ جاتا ہے۔ حالانکہ ان کا نفس بہت سے صیقلوں کے شیشہ کی صفت پر آگیا ہے اور جو کچھ ایک جاہل کو پانی اور پانی کا زور نظر آتا ہے وہ الہی چشمہ ہے جو اس شیشہ کے نیچے بہتا ہے۔ سو کامل انسان میں خدا تعالیٰ کے ارادے کام کرتے رہتے ہیں اور غسال کی طرح اس میت کو کبھی اس پہلو اور کبھی دوسرے پہلو بدلتے رہتے ہیں ۔ کبھی خدا تعالیٰ کی طرف سے کبریائی اس میں جوش مارتی ہے اور جاہل اس کا نام تکبر رکھتا ہے اور کبھی وہ درگز ر اور خاکساری اختیار کرتا ہے اور جاہل اس کو بزدلی سے منسوب کرتا ہے۔ کبھی عارف خدا تعالیٰ کی محبت اور عشق میں ڈوب کر ایک طرفۃ العین کے لئے اس کے رنگ سے رنگیں ہو جاتا ہے اور اس عاشقانہ بے تمیزی میں الوہیت کی چادر اپنے اوپر لپیٹ لیتا ہے اور بخودی کی حالت میں اَنَا الْحَقُّ يَا سُبْحَانِي مَا أَعْظَمَ شانی کے مثل الفاظ اپنے منہ سے نکالتا ہے ۔ تب جاہل یا تو اس کو کفر کی طرف منسوب کرتا ہے اور یا اس کے مستانہ قول کو فرقہ ضالہ وحدۃ الوجود کیلئے سند پکڑتا ہے۔ اگر چہ کسی اہل اللہ کے منہ سے انا الحق وغیرہ نکلنا اس کے ضعف اور کمزوری کی نشانی ہے اور اس بات پر دال ہے کہ ابھی وہ شخص عبودیت کے اعلیٰ ترین مقام پر جو منتہائے دائرہ کمالات انسانی ہے نہیں پہنچا۔ لیکن ایسے ایسے الفاظ میں یہ نقصان ہے کہ ان سے بہت سے لوگ فتنہ میں پڑتے ہیں اور ہلاک ہوتے ہیں ۔ سوذاتی اور اخلاقی لیاقت عارف کی یہی ہے کہ ایسے جوشوں کو دبا رکھے۔ یہی وجہ ہے کہ نبیوں کے منہ سے ایسے ایسے شطحیات ہر گز نہیں نکلے لیکن نا تمام عارفوں کی مستانہ بکواس سے نادانوں کو بہت نقصان پہنچا اور جس نشہ کی ایک با افراط جوش نے ان کے منہ سے ایسے الفاظ نکالے تھے اس کی طرف جاہلوں کا خیال نہیں آیا اور اس شک میں پڑ گئے کہ در حقیقت مخلوق خالق کا عین ہے۔ تب ہی تو ایسے ایسے بزرگوار عینیت کا دعوی کرتے ہیں اور بوجہ اپنی جہالت کے ان کو یہ نہ سوجھا کہ یہ سالکین کے لئے ایک درمیانی مقام ہے۔ جس میں محویت عشقی کی ایک آندھی آتی ہے یہاں تک کہ حالت خواب اور