مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 665 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 665

مکتوبات احمد ۶۶۵ جلد اول لئے بدلے گا تو وہ تیرے لئے بدلے گا اگر تو اس کے لئے بیدار ہو گا تو اسے بیدار پائے گا۔ اس جگہ ایک قرآنی نکتہ کہ جو حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ سبا کو اس کی آفتاب پرستی کی غلطی پر آگاہ کرنے کے لئے صرح ممرد کی شکل میں دکھایا۔ یادرکھنے کے قابل ہے۔ چنانچہ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ إِنَّهُ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ اجرام علوی و اجسام سفلی میں نظر آتا ہے جن میں سے بعض کی جاہل لوگ پرستش بھی کرتے ہیں تمام یہ چیزیں بیچ اور معدوم محض ہیں۔ پرستش کے لائق نہیں اور جو کچھ بظاہر ان میں طاقتیں نظر آتی ہیں ان کی طرف منسوب کرنا ایک دھوکا ہے بلکہ ایک ہی طاقت عظمیٰ ان سب کے نیچے پوشیدہ ہے کہ جو در حقیقت ان سے الگ ہے اور وہی یہ سب کرشمے دکھلا رہی ہے ۔ جیسا اس صرح ممر د کے نیچے پانی تھا اور اس طرح کا عین نہیں تھا بلکہ اس سے الگ تھا مگر بلقیس کی نظر سقیم میں عین دکھائی دیا تھا تب ہی اس نے ان شیشوں کو بہتے پانی کے دریا کی طرح سمجھا اور اپنی پنڈلیوں پر سے پاجامہ اُٹھا لیا۔ یہ اس کو ایسا ہی دھو کہ لگا تھا جیسا اس کو آفتاب پرستی میں لگا تھا کہ وہ طاقت عظمی اس کو نظر نہ آئی کہ جو در پردہ آفتاب سے عجائب کام ظہور میں لاتی اور اس سے الگ تھی ۔ اسی طرح دنیا ایک ایسے شیش محل کی طرح ہے جس کی زمین کا فرش نہایت مصفا شیشوں سے کیا گیا اور پھر ان شیشوں کے نیچے پانی چھوڑا گیا ہے جو نہایت تیزی سے چل رہا ہے ۔ اب ہر ایک نظر جو شیشوں پر پڑتی ہے وہ اپنی غلطی سے ان شیشوں کو بھی پانی سمجھ لیتی ہے اور پھر انسان ان شیشوں پر چلنے سے ایسا ڈرتا ہے جیسے پانی سے حالانکہ وہ در حقیقت شیشے ہیں ۔ سو یہ نکتہ کہ جو تمام عالم کے انکشاف حقیقت کے لئے عمدہ ترین اصول ہے۔ اہل اللہ سے بہت مناسبت رکھتا ہے اور جس طرح اللہ جل شانہ نے بلقیس کی نسبت فرمایا ہے فَلَمَّا رَأَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَكَشَفَتْ عَنْ سَاقَيْهَا قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُمَرَّدٌ مِنْ قَوَارِيرَ یعنی بلقیس نے اس شیش محل کو جس کا فرش مصفا اور شفاف شیشے تھے اور نیچے ان کے پانی بہتا تھا اپنی غلط فہمی سے بہتا پانی خیال کیا ایسا ہی اہل اللہ کی نسبت لوگ دھوکا کھا جاتے ہیں یعنی وہ پانی جو انکی شیشوں کے فرش کے نیچے یعنی ان کی فانی حالت کے تحت میں منجانب اللہ بہتا ہے اور کبھی اپنی سختی اور ا ، النمل: ۴۵