مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 648 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 648

مکتوبات احمد ۶۴۸ جلد اول اور محرومی محض کا تو اپنے خط میں آپ کو بھی اقرار ہے ۔ ہاں بطور قصہ اور کہانی کے دوسرے لوگوں کے فضائل کے آپ قائل ہیں مگر قصوں اور کہانیوں کے ہم قائل نہیں ۔ مردہ پرستوں کا قدیم سے یہ شیوہ چلا آتا ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہم روحانی برکات سے بے نصیب اور محروم محض ہیں ۔ اور باایں ہمہ یہ بھی منظور ہے کہ اپنے مشرب کی گو وہ کیسا ہی گندہ ہو تعریف کی جائے تو مخنث کی طرح جو اپنے بھائی کی مردی پر ناز کرتا ہے، کسی زمانہ کے گزرے ہوئے مردوں کی کہانیاں پیش کرتے ہیں اور دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ہم مشرب تھے یا ہمارے ہی داد صاحب تھے مگر ایسے دعووں کو کوئی پسند نہیں کرتا ۔ مثلاً اگر ہم کسی ہندو کے سامنے اپنے گزشتہ اولیاء کے صرف جھوٹے تذکرے پیش کر سکتے ہیں تو کیا وہ ہندو اسی بارہ میں اپنے گرنتھ یا پوتھیاں پیش نہیں کر سکتا ؟ یہ تو عام عادت ہے کہ عوام کالانعام جن کے مشرب میں ہوتے ہیں مرنے کے بعد ان کو ایک بڑا صاحب مقامات و کرامات قرار دے دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب وہ مر چکا ۔ اب اس کے حال کی تفتیش کرنا مشکل ہے ۔ چاہیں اس کو غوث بنا دیں یا قطب ٹھہرا دیں ۔ کیا اس کو غوث الثقلین اور قطب دارین کہہ دیں ۔ پیراں نمی پرند مریداں می پرانند ۔ انہیں لوگوں کے حق میں ہے۔ سو حالی طور پر نہ اس زمانہ کے وجودی کوئی ایسی دلیل دے سکتے ہیں کہ جو دوسرے پر اتمام حجت کرے اور نہ ان کے مُردہ پیشوا قبروں سے نکل کر اپنی خدائی کا کوئی کرشمہ دکھا سکتے ہیں ۔ ایسا ہی عقلی طور پر کسی وجودی کو دم مارنے کی جگہ نہیں ۔ وجودیوں کے مذہب کا لب لباب یہ ہے کہ ہم اور خدا ایک ہی ہیں صرف درمیان میں اعتباری تغائر ہے جیسا ہے جیسا کہ اپنے خط میں آ۔ خط میں آپ خود تسلیم کر چکے ہیں اور محی الدین عربی صاحب جا بجا اپنی تالیفات میں اسی پر زور دیتے ہیں کہ الخالق عین مخلوق “ دیکھو نصوص کے پہلے ہی صفحات پر ۔ پس جب کہ وجودی بزعم خود خدا ہوئے تو اب کس قدر ان پر اعتراض ہوتے ہیں ۔ کیا کوئی گن سکتا ہے؟ کیا خدائے عزوجل کی روح کبھی خدائی کے مرتبہ سے منزل بھی کرتی ہے اور اس سے گناہ اور فسق و فجور اور ہر طرح کی حرامکاری اور مکاری سرزد ہوتی ہے؟ اور نیز ضعف اور جہل اور نادانی وغیرہ رذائل اس کے عائد حال ہو جاتے ہیں اور پھر جہنم ابدی اس کے نصیب ہوتا ہے نعوذ بالله من هذه الخرافات و سبحن ربنا عما يصفون ۔ اب جبکہ نہ حال کی رو سے نہ عقل کی رو سے نہ بینات قرآنیہ کی رو سے وجودی مذہب کی صداقت آپ کے پاس ہے تو آپ کا کہنا رو۔ 66