مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 639
مکتوبات احمد ۶۳۹ آسمانی فیصلہ کے متعلق میر عباس علی کا ایک مکتوب اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے اس کا جواب بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول از جانب عباس علی ۔ بخدمت مرزا غلام احمد قادیانی ۔ عرض ہے کہ جواب فیصلہ آسمانی مندرجہ شاعۃ السنۃ صفحہ ۵۱ جو ایک صوفی صاحب بالمقابل آپ سے بموجب آپ کے وعدے کے کرامت دیکھنے یا دکھلانے کی درخواست کرتے ہیں۔ بھیج کر التماس ہے کہ آپ کو اس میں جو کچھ منظور ہو تحریر فرماویں کہ اس کے موافق عملدرآمد کیا جاوے۔ اور مضمون صفحہ ۵۱ بغور ملاحظہ ہو کہ فریق ثانی آپ کے عاجز ہونے پر کام شروع کرے گا ۔ ( الراقم عباس علی از لود بانه ۶ رمئی ۱۸۹۲ء) الجواب مکتوب نمبر ۶۱ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ والسّلام على عباده الذي اصطفى اما بعد بخدمت میر عباس علی صاحب واضح ہو کہ آپ کا رقعہ پہنچا۔ آپ لکھتے ہیں جو ایک صوفی صاحب بالمقابل آپ سے بموجب آپ کے دعوے کے اشاعت السنۃ میں کرامت دیکھنے یا دکھلانے کی درخواست کرتے ہیں ۔ آپ کو اس میں جو کچھ منظور ہو تحریر فرماویں۔ فقط ۔ اس کا جواب میری طرف سے یہ ہے کہ اگر در حقیقت کوئی صوفی صاحب اس عاجز کے مقابلہ پر اُٹھے ہیں اور جو کچھ فیصلہ آسمانی میں اس عاجز نے لکھا ہے اس کو قبول کر کے تصفیہ حق اور باطل کا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ لازم ہے کہ وہ چوروں کی طرح کار روائی نہ کریں۔ پردہ سے اپنا منہ باہر نکالیں اور مرد میدان بن کر ایک اشتہار دیں۔ اسی اشتہار میں بتصریح اپنا نام لکھیں اور اپنا دعوی بالمقابل ظاہر فرمائیں اور پھر اس طرز پر چلیں جس طرز پر اس عاجز نے فیصلہ آسمانی میں تصفیہ چاہا ہے۔ اور اگر وہ طرز منظور نہ ہو تو فریقین میں ثالث مقرر ہو جائیں ۔ جو کچھ وہ ثالث حسب ہدایت اللہ اور رسول کے روحانی آزمائش کا طریق پیش کریں وہی منظور کیا جائے ۔ چوروں اور نامردوں اور مخنثوں کی طرح