مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 626
مکتوبات احمد ۶۲۶ جلد اول بکلی عاری اور مکاشفات سے بکلی بے نصیب اور خدا تعالیٰ کی خالقیت اور حشر اجساد سے بکلی انکاری قرار دیتے ہیں اور مرزا صاحب ایک قدم آگے بڑھ کر ہندوؤں کے ویدوں کی نسبت اُن سب چیزوں کو مانتے ہیں ۔ اب دیکھئے کہ بقول شخصے کہ مدعی سُست اور گواہ چست ۔ کیا نالائق غلو مرزا صاحب کے بیان میں پایا جاتا ہے جس پر آج کل کے محقق اطلاع پاویں تو مرزا صاحب کو ایک غایت درجہ کا سادہ لوح قرار دیں اور اُن کی باتوں پر قہقہہ مار کر ہنسیں ۔ پھر دیکھنا چاہئے کہ مرزا صاحب اپنے اسی مکتوب میں ہندوؤں کو بُت پرستی سے بھی بری قرار دینا چاہتے ہیں ۔ یہ کس قدر بے خبری اور لا علمی مرزا صاحب کی ہے کہ ہندوستان میں پرورش پا کر ہندوؤں کے عقائد سے کس قدر بے خبر اور غافل ہیں ۔ اُنہیں معلوم نہیں کہ ہندو تو عرب کے بُت پرستوں سے اپنے شرک میں کئی درجہ بڑھ کر ہیں کیونکہ عرب کے بُت پرست اگر چہ اپنی مرادیں بتوں سے مانگتے تھے مگر اُن کا یہ قول ہرگز نہ تھا کہ دنیا کے خالق و مالک وہی دیوتا ہیں جن کی تصویریں اور مورتیں پتھر یا دھات وغیرہ سے متشکل کر کے پوجی جاتی ہیں ۔ لیکن ہندوؤں کا اصول جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے یہ ہے کہ پرمیشر دنیا کا خالق نہیں ہے بلکہ اُن کے دیوتا دنیا کے خالق ہیں اور انہیں سے مرادیں مانگنی چاہئیں ۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ ہندو انہیں بتوں سے مرادیں مانگنے میں بڑے سرگرم ہیں ۔ مرزا صاحب نے شاید کسی تہہ خانہ میں پرورش پائی ہو گی کہ اُن کو اپنی مدت العمر تک یہ بھی خبر نہ ہوئی کہ ہندو اپنے پرانے بت خانوں کے درشن کے لئے کس جوش اور خروش میں جایا کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ جگن ناتھ وغیرہ بت خانوں کے بڑے بڑے بتوں کے راضی اور خوش کرنے کیلئے بعض بعض ہندو اپنی زبانیں بھی کاٹ کر چڑھا دیتے ہیں اور گنگا مائی کے درشن کرنے والے جو ہر سال ہزا رہا جاتے ہیں اور پکار پکار کر مرادیں مانگتے ہیں۔ یہ بات بھی مرزا صاحب سے چھپی رہی اور اسی طرح وہ صد ہا کتابیں ہندوؤں کی جنہوں نے خود اپنی بُت پرستی کا اقرار کیا ہے اور اپنے دیوتاؤں اور بتوں سے مرادیں مانگنے کے طریق لکھے ہیں ۔ اگر اُن میں سے کوئی کتاب مرزا صاحب کی نظر میں گزر جاتی تو میں خیال کرتا ہوں کہ مرزا صاحب موصوف بہت ہی شرمندہ ہوتے ۔ مگر بالآخر مجھ کو یہ خیال آتا ہے کہ غالباً یہ مکتوب کسی اور شخص نے لکھ کر مرزا صاحب کی طرف منسوب کر دیا ہے کیونکہ یہ بات عام طور پر چلی آتی ہے کہ اکثر اہل غرض اپنی تحریروں کو بعض اکابر کی طرف منسوب کرتے رہے ہیں -