مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 610 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 610

مکتوبات احمد ۶۱۰ جلد اول اول تو مجھے اپنے پاس ( نابھہ میں پھر لاہور میں ) بُلاتے ہیں اور خود آنے کا ارادہ ظاہر فرماتے ہیں تو مباحثہ کے لئے نہ آسمانی نشان دیکھنے کیلئے ۔ اس پر طرفہ یہ ہے کہ رو پید اشتہار پیشگی طلب فرماتے ہیں جس کا میں نے پہلے وعدہ نہیں دیا ۔ اب آپ خیال فرما سکتے ہیں کہ میری تحریر سے آپ کا جواب کہاں تک متفاوت و متجاوز ہے۔ یہ میں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا ۔ لہذا میں اپنے اسی پہلے اقرار کی رُو سے پھر آپ کو لکھتا ہوں کہ آپ ایک سال رہ کر آسمانی نشانوں کا مشاہدہ فرماویں اگر بالفرض کسی آسمانی نشان کا آپ کو مشاہدہ نہ ہو تو میں آپ کو چوبیس سو روپیہ دے دونگا اور اگر آپ کو پیشگی لینے پر اصرار ہو تو مجھے اس سے بھی دریغ و عذر نہیں ۔ بلکہ آپ کے اطمینان کیلئے سر دست چوبیں سو روپیہ نقد همراه رقیمہ ہذا ارسال خدمت ہے مگر چونکہ آپ نے یہ ایک امر ز ا ئد چاہا ہے اس لئے مجھے بھی حق پیدا ہو گیا ہے کہ میں اس امر زائد کے مقابلہ میں کچھ شروط ایسی کروں جن کا ماننا آپ پر واجبات سے ہے۔ (1) جب تک آپ کا سال گزر نہ جائے کوئی دوسرا شخص آپ کے گروہ سے زر موعود پیشگی لینے کا مطالبہ نہ کرے کیونکہ ہر شخص کو زر پیشگی دینا سہل و آسان نہیں ہے۔ (۲) اگر آپ مشاہدہ نشان آسمانی کے بعد اظہار اسلام میں توقف کریں اور اپنے عہد کو پورا نہ کریں تو پھر حرجانہ یا جرمانہ دونوں امر سے ایک امر ضرور ہو۔ ( الف ) سب لوگ آپ کے گروہ کے جو آپ کو مقتدا جانتے ہیں یا آپ کے حامی اور مربی ہیں اپنا عجز اور اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کا بے دلیل ہونا تسلیم کر لیں ۔ وہ لوگ ابھی سے آپ کو اپنا وکیل مقرر کر کے اس تحریر کا آپ کو اختیار دیں۔ پھر اس پر اپنے دستخط کریں۔ ( ب ) در صورت تخلف وعده جانب ثانی سے اس کا مالی جرمانہ یا معاوضہ جو آپ کی اور آپ کے مربیوں اور حامیوں اور مقتدیوں کی حیثیت کے مطابق ہو ادا کریں تا کہ وہ اس مال سے اس وعدہ خلافی کی کوئی یادگار قائم کی جائے ( ایک اخبار تائید اسلام میں جاری ہو یا کوئی مدرسہ تعلیم نو مسلم اہل اسلام کے لئے قائم ہو ) آپ ان شرائط کو تسلیم نہ کریں تو آپ مجھ سے پیشگی روپیہ نہیں لے سکتے اور اگر آپ آسمانی نشان کے مشاہدہ کے لئے نہیں آنا چاہتے صرف مباحثہ کیلئے آنا چاہتے ہیں تو اس امر کے لئے میری خصوصیت نہیں۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے اس اُمتِ محمد یہ میں علماء اور فضلاء اور بہت