مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 609
مکتوبات احمد ۶۰۹ جلد اول کے جس کی ایک کا پی آپ کی خدمت میں بھیجی جاتی ہے ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا اندرمن کے مکان پر جہاں وہ فروکش تھا ، لے گیا۔ مگر اندر من غالبا اس انتظام کی خبر پا کر فرید کوٹ کی طرف بھاگ گیا۔ آخر وہ خط بطور اشتہار کے چھپوایا گیا اور شہر میں تقسیم کیا گیا اور وہ رجسٹری شده خط راجہ صاحب نابھہ اور راجہ صاحب فرید کوٹ کے پاس بھیجے گئے اور بعض آریہ سماجوں میں بھی وہ خطوط بھیجے گئے ۔ شاید اگر یہ کسی راجہ کے کہنے کہانے سے اندر من نے اس طرف رخ کیا تو پھر اطلاع دی جائے گی ۔ بالفعل اللہ تعالیٰ نے میدان مسلمانوں کے ہاتھ میں رکھا ۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ نقل اشتہار منشی اندرمن صاحب مراد آبادی نے میرے اس مطبوعہ خط (جس کی ایک ایک کاپی غیر مذاہب کے رؤساء و مقتداؤں کے نام خاکسار نے روانہ کی تھی ) جس کے جواب میں پہلے نابھہ سے پھر لاہور سے یہ لکھا تھا کہ تم ہمارے پاس آؤ اور ہم سے مباحثہ کرلو ۔ اور زرموعودہ اشتہار پیشگی بنک میں داخل کرو۔ وغیرہ وغیرہ ۔ اس کے جواب میں خاکسار نے رقیمہ ذیل معہ دو ہزار چار سو روپیہ نقد ایک جماعت اہلِ اسلام کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں روانہ لاہور کیا ۔ جب وہ جماعت منشی صاحب کے مکان موعود پر پہنچی تو منشی صاحب کو وہاں نہ پایا۔ وہاں سے اُن کو معلوم ہوا کہ جس دن منشی صاحب نے خاکسار کے نام وہ خط روانہ کیا تھا ۔ اُسی دن سے وہ فرید کوٹ تشریف لے گئے ہوئے ہیں ۔ باوجود یکہ اُس خط میں منشی صاحب نے ایک ہفتہ تک منتظر جواب رہنے کا وعدہ تحریری لکھا تھا۔ یہ امر نہایت تعجب اور تردد کا موجب ہوا ۔ لہذا یہ قرار پایا کہ اس رقیمہ کو بذریعہ اشتہار مشتہر کیا جاوے اور اس کی ایک کاپی منشی صاحب کے نام حسب نشان مکان موعودہ بذریعہ رجسٹری روانه کی جاوے۔ وہ یہ ہے ہے:۔ مشفقی اندر من صاحب ! آپ نے میرے اس خط کا جواب نہیں دیا۔ ایک نئی بات لکھی ہے جس کی تعمیل مجھ پر اپنے عہد کے رُو سے واجب نہیں ہے۔ میری طرف سے یہ عہد تھا کہ جو شخص میرے پاس آوے اور صدق دل سے ایک سال میرے پاس ٹھہرے اس کو خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی آسمانی نشان مشاہدہ کرادے گا جس سے قرآن اور دین اسلام کی صداقت ثابت ہو۔ آپ اُس کے جواب میں