مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 607 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 607

مکتوبات احمد جلد اول مرزا جان جانان صاحب کے خط کا رڈ کچھ مشکل نہیں ۔ مرزا صاحب مرحوم ہندوؤں کے اصولوں سے بکلی نا واقف معلوم ہوتے ہیں ۔ اِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰی کسی فرصت کے وقت ان کی نسبت کچھ تحریر کیا جائے گا۔ اس عاجز کا یہ حال ہے کہ بعض گذشتہ اور تازہ الہامات سے قرب اجل کے آثار پائے جاتے ہیں گو صفائی سے نہیں بلکہ مشتبہ اور ذو معنیین الہام ہیں ۔ تا ہم فکر سے غافل نہیں رہنا چاہئے ۔ اسی وجہ سے میں نے اپنی تمام ہمت کو اس طرف مصروف کیا ہے۔ حصہ پنجم کی عبارت کو جلد ہا ہے۔ اس وجہ سے میں نے اپنی تمام جہت کو مرتب اور با محاورہ کر کے اور جو کچھ اس میں زائد داخل کرنا ہے وہ داخل کر کے تَوَكَّلًا عَلَى اللهِ چھپوا نا شروع کر دوں کہ اس نا پائیدار اور پیچ زندگی کا کچھ اعتبار نہیں ۔ آپ بھی دعا کریں اور اخوی منشی احمد جان صاحب کو بھی لکھیں کیونکہ بعض تقدیرات بعض دعاؤں سے مل جاتی ہیں ۔ مکتوب نمبر ۱ ۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمه تعالی ۔ بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ مع مبلغ چالیس روپیہ پہنچا۔ یہ عاجز آپ کا بغایت درجہ شکر گزار ہے اور اپنے مولی کریم جل شانہ سے یہ چاہتا ہے کہ آپ کو جزائے عظیم بخشے ۔ آج اسی وقت میں نے خواب دیکھا ہے کہ کسی ابتلاء میں پڑا ہوں اور میں نے اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہا اور جو شخص سرکاری طور پر مجھ سے مواخذہ کرتا ہے۔ میں نے اُس کو کہا۔ کیا مجھ کو قید کریں گے یا قتل کریں گے؟ اس نے کچھ ایسا کہا کہ انتظام یہ ہوا ہے کہ گرایا جائے گا۔ میں نے کہا کہ میں اپنے خداوند تعالیٰ جل شانہ کے تصرف میں ہوں ۔ جہاں مجھ کو بٹھائے گا ، بیٹھ جاؤں گا اور جہاں مجھ کو کھڑا کرے گا کھڑا ہو جاؤں گا۔ اور یہ الہام ہوا ۔ يَدْعُونَ لَكَ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعِبَادُ اللَّهِ مِنَ الْعَرَبِ کے یعنی تیرے لئے ے تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحه ۱۰۰