مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 606
مکتوبات احمد ٦٠٦ جلد اول روپیہ خرچ آ جائے گا ۔ مگر یہ کام اتمام حجت کیلئے کیا گیا ہے تاہر یک ضلع میں بڑے بڑے پادریوں اور پنڈتوں کی طرف اور بعض راجوں اور رئیسوں کی طرف بھی اور بعض علماء اور گدی نشینوں کی کی طرف بھی روانہ کئے جائیں اور پھر جب اُن سب کی اطلاع یابی ہو کر آ جائے تو اُن سب کے نام بغرض اظہار اتمام حجت حصہ پنجم میں درج کئے جائیں ۔ سو اگر خدا تعالیٰ نے چاہا اور اُس کے ارادہ میں ہوا تو یہ کام انجام پذیر ہو جائے گا ورنہ ہر چہ مرضی مولی همان اولی ۔ مکتوب حضرت یحی منیری کا مضمون جو آپ نے لکھا ہے بہت ہی عمدہ ہے اور منصف کے لئے کافی ۔ والسلام ۲ مارچ ۱۸۸۵ء ۱۲ / جمادی الاول ۱۳۰۲ھ مکتوب نمبر ۵۰ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ از عاجز عاید بالله الصمد غلام احمد بخدمت اخویم مخدوم و مکرم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا عنایت نامہ آں مخدوم پہنچا ۔ حال معلوم ہوا ۔ جس قدر آں مخدوم نے اشاعت دین اور اعلاء کلمہ اسلام کے لئے رنج اُٹھایا ہے خدا تعالیٰ اُس کے عوض میں آپ پر اس طور سے راضی ہو کہ جیسا اپنے سچے خادموں اور مقبولوں پر راضی ہوا کرتا ہے ۔ آمین ثم آمین ۔ فی الحقیقت مسلمانوں کی عجیب نازک حالت ہو رہی ہے۔ جس عظمت اور بزرگی کو خدا اور رسول میں ماننا تھا، وہ اور اور چیزوں کو دے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ رحم کرے اور اپنے سچے دین کی حمایت میں وہ تائید دکھلاوے جن سے ان کور باطنوں کی آنکھیں کھلیں ۔ ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حقیقت اور کیا کر سکتے ہیں ۔ اگر ہمارے ہاتھوں میں توفیق ایز دی کچھ ہے تو صرف تضرعات ہیں اگر رب العرش تک پہنچ جائیں لیکن دل پر درد کا یہ حال ہے کہ نہ بہشت کے نعماء کے لئے طبیعت کو جوش ہے اور نہ دوزخ کے آلام کی فکر ہے بلکہ دل اور جان اسی تمنا میں غرق ہو رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان بدعات کے داغوں کو اسلام کی خوبصورت شکل سے دور کرے اور اپنی خاص حمایت اور نصرت سے عظمت اور بزرگی اپنے کلام کی لوگوں پر ظاہر فرماوے ۔ آمین !