مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 555 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 555

مکتوبات احمد ۵۵۵ مکتوب نمبر ۲۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ یہ عاجز دعا سے غافل نہیں مگر ہر ایک امر وقت پر موقوف ہے اور آپ میں آثار سعادت اور رشد کے ظاہر ہیں کہ آپ کی حقیقت بینی پر نظر ہے اور صدق اور خلوص اور وفا اور حسن ظن کا خُلق موجود ہے۔ پس یہ وہ چیزیں ہیں کہ جس کو مولیٰ کریم کی طرف سے عطا کی جاتی ہیں اس کیلئے استقامت کا عطا ہونا ساتھ ہی مقدر ہوتا ہے ۔ خداوند تعالیٰ بغایت درجہ کریم و رحیم ہے ۔ وہ جس دل میں ایک ذرہ بھی اخلاص اور صدق پاتا ہے اُس کو ضائع نہیں کرتا ۔ آپ بعض اپنے دوستوں کی تغییر حالت سے دل شکستہ نہ ہوں ۔ مولوی صاحب کی وہ حالت ہے کہ نہ اُنہوں نے ارادت کے وقت اس عاجز کو شناخت کیا اور نہ فسخ ارادت کے وقت پہچانا ۔ سوان کی نہ ارادت قابلِ اعتبار تھی اور نہ اب فتح ارادت معتبر ہے۔ ارادت اور فتح ارادت وہی معتبر ہے جو علی وجہ البصیرت ہو۔ اور اگر علی وجہ البصیرت نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ مسجد کا زینہ تیار ہو گیا ہے ۔ عجب فضل الہی ہے کہ شاید پرسوں کے دن یعنی بروز سہ شنبہ مسجد کی طرف نظر کی گئی تو اُسی وقت خداوند کریم کی طرف سے ایک اور فقرہ الہام ہوا۔ اور وہ یہ کی تو کریم ہے ۔ فِيهِ بَرَكَاتُ لِلنَّاسِ لے یعنی اس میں لوگوں کیلئے برکتیں ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ ہر سہ حصہ کی کتابیں اگر چہ اس وقت زبانی یاد نہیں مگر شاید قریب دوسو کے کتاب باقی ہوگی ۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ صفحہ ۳۱ فتوح الغیب کی شرح یہ ہے کہ سالک کا چار حالتوں پر گذر ہوتا ہے اور حالت چہارم سب سے اعلیٰ ہے اور وہی ترقیات قرب کا انتہائی درجہ ہے جس پر سلسلہ کمالات ولایت کا ختم ہو جاتا ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ پہلی حالت وہ حالت ہے کہ جب انسان ناسوتی اندیشوں میں مبتلا ہوتا ہے اور شتر بے مہار کی طرح جو چاہتا ہے کھاتا ہے اور جو چاہتا ہے پیتا ہے اور جس طرف چاہتا ہے چلتا ہے ۔ سو وہ اسی حالت میں ہوتا ہے کہ ناگاه حضرت خداوند کریم اُس پر نظر کرتا ہے اور باطنی اور ظاہری ا تذکرہ صفحہ ۸۶ ۔ ایڈیشن چہارم