مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 554
مکتوبات احمد ۵۵۴ جلد اول کی کیا حقیقت اور بضاعت ہے ۔ وہی ایک ہے جس نے اپنے عاجز اور ناتواں بندہ کو ایک خدمت کیلئے مامور کیا ہے۔ اب دیکھئے کہ کب تک اس رب العرش تک اس عاجز کی آہیں پہنچتی ہیں ۔ آپ نے ما سے لکھا تھا کہ بعض احباب علماء کی طرف سے یہ فتوی لائے ہیں کہ اتباع قال اللہ وقال الرسول اور ترجیح اُس کی دوسرے لوگوں کے قولوں پر کفر ہے مگر یہ بندہ عاجز کہتا ہے کہ زہے سعادت کہ کسی کو یہ کفر حاصل ہو۔ گر این کفرم بدست آید بر وقربان کنم صد دین خداوندا بمیرانم بریں کفرو بریں آئیں حضرت افضل الرسل، خیر الرسل، فخر الرسل، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر اور اس کی پاک اور کامل حدیث اور خدا کا سچا نور اور بلا ریب کلام ترک کر کے پھر اور کونسی پناہ ہے جس طرف رُخ کریں اور اُس سے زیادہ کون سا چہرہ پیارا ہے جو ہماری دلبری کرے ۔ گر مهر خویش بر کنم از روئے دلبرم آن مهر بر که افکنم آن دل گجا برم من آں نیم که چشم به بندم ز روئے دوست ور بینم این که تیر بیاند برابرم آپ کسی کی بات کی طرف متوجہ نہ ہوں اور عاشق صادق کی طرح قول سے فعل سے ، مدح سے، ثنا سے ، متابعت سے فنا فی الرسول ہو جائیں کہ سب برکات اسی میں ہیں ۔ اکثر لوگوں پر عادت اور رسم غالب ہو رہی ہے اور بڑی بڑی زنجیریں پاؤں میں پڑی ہوئی ہیں اور کوئی اس طرف آ نہیں سکتا ۔ مگر جس کو خدا کھینچ کر لاوے۔ سوصبر سے، استقامت سے اُن کے جو رو جفا کا تحمل کرنا چاہئے دنیا اُنہیں سے دوستی رکھتی ہے جو دنیا سے مشابہ ہوتے ہیں مگر جو خدا کے بندے ہیں گو وہ کیسے ہی تنہا اور غریب ہوں تب ؟ تب بھی خدا اُن کے ساتھ ہے اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفُ كَذَّابٌ ۔ آپ کے سب دوستوں کو سلام مسنون پہنچے ۔ ☆ ۱۹ را گست ۱۸۸۳ ء مطابق ۱۹ رشوال ۱۳۰۰ھ ا المؤمن : ۲۹ ی الحکم ۱۷ راکتو بر ۱ ۱۹۰ ء صفحه ۱ تا ۳