مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 547
مکتوبات احمد ۵۴۷ جلد اول کوشش اور محنت اور مشقت کا سلسلہ جاری رہے اور ثابت قدمی اور استقامت اور وفا اور حسن ظن میں کچھ فرق نہ آوے بلکہ اپنے سینہ میں انشراح اور اپنی طبیعت میں انبساط پاوے۔ اور اپنے کاموں سے خداوند کریم پر کچھ احسان نہ سمجھے تو جاننا چاہئے کہ اُس کے اجر کا وقت نزدیک ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ لا مبارک وہ لوگ جو خدمت سے سیر نہ ہوں اور جلدی نہ کریں۔ پھر دیکھیں کہ مولیٰ کریم کیسا خادم نواز ہے ۔ عیالداری کے ترددات آپ کو ہوں گے۔ مگر ان تردّدات سے خدا وند کریم بے خبر نہیں ۔ جن فکر کی باتوں کو ایک عاجز بندہ رات کو اپنی چار پائی پر لیٹا ہوا سوچا کرتا ہے یا دن کو اپنے گھر میں جا کر بعض وقت یہ تنگیاں اس پر آپڑتی ہیں ۔ ان سب تنگیوں اور تکلیفوں کو خداوند کریم اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے اور کچھ دنوں تک اپنے بندہ کو ابتلا میں رکھتا ہے۔ پھر یک مرتبہ نظر عنایت سے دیکھتا ہے اور اُس پر وہ دروازے کھولے جاتے ہیں جن کی اُس کو کچھ خبر نہیں تھی وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ کے کیا جس کا خداحي، قيوم، قادر، مہربان موجود ہے وہ کچھ غم کر سکتا ہے۔ غم اور ایمان کامل ایک جگہ کبھی جمع نہیں ہوئے اور نہ ہو سکتے ہیں۔ اَلَّا إِنَّ أَوْلِيَاء اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ کے والسلام ۲۵ جولائی ۱۸۸۳ء مطابق ۲۰ رمضان ۱۳۰۰ھ ل التوبة: ۱۲۰ الاعراف: ۱۹۷ ۳ یونس : ۶۳