مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 546
مکتوبات احمد ۵۴۶ مکتوب نمبر ۲۲ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جلد اول مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب سلمہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ بعد ہذا عنایت نامه آن مخدوم پہنچا۔ جس قدر نیچریوں کا جوش وخروش ہے اُس کو دیکھ کر اور نیز دوسرے مخالفین و معاندین کی معاندانہ کوششوں کو ملاحظہ کر کے جو کچھ مومنوں کے دلوں پر صدمہ پہنچتا ہے بلا شبہ وہ بیان سے باہر ہے ۔ ہماری قوتیں کیا چیز ہیں؟ اور ہماری طاقتیں کیا حقیقت رکھتی ہیں؟ اور ہم کیا ہیں کہ کچھ دم مارسکیں ؟ خداوند کریم خود اس طوفان کو فرو کرے اور اس کے فضل و کرم پر یہی امیدیں ہیں ۔ کچھ معلوم نہ ہوا کہ سردار بکر ما سنگھ نے کیا اعتراض پیش کئے ۔ اگر آپ کو معلوم ہو تو ضرور مطلع فرماویں۔ بدقسمت لوگوں کو تعصب اور حُبّ دنیا نے حق کے قبول سے روک رکھا ہے ورنہ عقائد حقہ اسلام کے اس قدر روشن اور بدیہی الصدق ہیں کہ کسی منصف اور طالب حق کو اُن میں کلام نہیں ۔ سبحان اللہ کیا ہی مبارک دین ہے کہ اس کے سچے تابعین کی طرف رحمت الہی یوں دوڑتی ہے کہ جیسے پانی اوپر سے نیچے کو آتا ہے اور مخالفین کا وجود بھی عبث نہیں ۔ یہ اس لئے دنیا میں زندہ رکھے ۔ یہ گئے ہیں کہ تا مومنین کو ستاویں اور طرح طرح کے اُن کو دکھ دیں اور اپنے قول فعل سے در پے آزار رہیں ۔ اور اس طرح پر مومنوں کی ترقی اور مراتب کمال تک پہنچنے کا ذریعہ ٹھہر جائیں ۔ فالحمد لله على الطافها التجلية والخفية آپ کو گلی اختیار ہے کہ جو کچھ قیمت کتاب میں جمع ہو اُس کو حسب ضرورت خرچ کرتے رہیں ۔ خداوند کریم نے آپ کی سعی میں برکت ڈالی ہے اور آپ وہ کام کر رہے ہیں کہ جس میں ہر ایک کو آپ کی طرح توفیق نہیں دی گئی ۔ خداوند کریم آپ کو دنیا و دین میں اس کا اجر بخش کر اس عاجز کو دکھاوے اور وہ تو بغایت درجہ کریم و رحیم ہے اور ہر گز ممکن نہیں کہ ایک انسان اخلاص سے ، صدق سے، ثبات سے،استقامت سے، خالصاً اُس کے لئے کوئی محنت اختیار کرے اور وہ اُس کی محنت کو ضائع کرے اور اُس کا کچھ اجر نہ دے۔ اس جناب میں راستبازوں کی محنتیں ہرگز ضائع نہیں ہوتیں اور مخلصانہ کوشش ہرگز بر باد نہیں جاتی۔ جب ایک انسان تمام تر اخلاص سے خالصًا لِلهِ سعی بجالا وے اور ایک مدت تک اُس کی سعی اور