مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 533
مکتوبات احمد ۵۳۳ جلد اول مکتوب نمبر ۱۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی شاہ صاحب زاد اللہ فی برکا تہم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آن مخدوم کا عنایت نامہ پہنچا۔ سبحان اللہ کیا جوش ہے کہ خدا وند کریم نے آپ کے دل میں ڈال دیا اور ایسا ہی آپ کے دوست مولوی عبد القادر صاحب کے دل میں ۔ خداوند کریم بندوں کے فعل اور اُن کی نیات کو خوب جانتا ہے جو شخص اُس کے لئے کوئی در داُ ٹھا تا ہے۔ اُس کا عمل کبھی ضائع نہیں ہوگا ۔ اُس کی نظر عنایت اگر چہ دیر سے ظاہر ہو مگر جب ظاہر ہوتی ہے تو وہ کام کر دکھاتی ہے جس کی عاجز بندہ کو کچھ امید نہیں ہوتی ۔ خداوند کریم آپ کی اس دلی جوش میں مدد کرے اور اپنی عنایت خاص سے ثابت قدمی بخشے اور ابتلا سے محفوظ رکھے اور آپ بھی ثابت قدمی کیلئے دعا کرتے رہیں کیونکہ بڑے بڑے کاموں میں ابتلا بھی بڑی بڑی پیش آتی ہیں اور انسان ضعیف البنیان کی کیا طاقت ہے کہ خود بخود بغیر عنایت و حمایت حضرت احدیت کے کسی ابتلا کا مقابلہ کر سکے ۔ پس ثبت اقدام اُسی سے مانگنا چاہئے اور اُسی کی حول وقوت پر بھروسہ کرنا چاہئے ۔ ہم سب لوگ بغیر اُس کے فضل و احسان کے کچھ بھی نہیں ۔ آپ نے لکھا تھا کہ بعض لوگ یاوہ گوئی کرتے ہیں ۔ سو آپ جانتے ہیں کہ ہر ایک امر خداوند کریم کے ہاتھ میں ہے ۔ کسی کی فضول گوئی سے کچھ بگڑتا نہیں ۔ اسی طرح پر عادت اللہ جاری ہے کہ ہر ایک مہم عظیم کے مقابلہ پر کچھ معاند ہوتے چلے آئے ہیں ۔ خدا کے نبی اور اُن کے تابعین قدیم سے ستائے گئے ہیں ۔ سو ہم لوگ کیونکر سنت اللہ سے الگ رہ سکتے ہیں ۔ وہ اندر کی باتیں جو مجھ پر ظاہر کی جاتی ہیں ۔ ہنوز اُن میں کچھ بھی نہیں ۔ کئی مکروہات در پیش ہیں جن میں خدا کی حفاظت درکار ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اور اُس کا فعل قابل اعتراض نہیں ۔ جو کچھ کرتا ہے بہت اچھا کرتا ہے۔ کسی کی کیا طاقت ہے کہ کچھ بول سکے ، جب تک اُس بولنے میں اُس کی کچھ حکمت نہ ہو اور کم سے کم یہی حکمت ہے کہ جن مردوں نے سچائی کی راہ پر قدم مارا ہے ۔ اُن کے لئے یہ ابتلا در پیش رہا ہے اور اس ابتلا پر ثابت قدم رہنے سے وہ اجر پاتے ہیں ۔ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا