مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 523
مکتوبات احمد ۵۲۳ جلد اول L تو درود شریف، جیسا کہ میں نے زبانی بھی سمجھایا تھا، اس غرض سے پڑھنا چاہئے کہ تا خداوند کریم اپنی کامل برکات اپنے نبی کریم پر نازل کرے اور اُس کو تمام عالم کے لئے سرچشمہ برکتوں کا بناوے اور اُس کی بزرگی اور اس کی شان و شوکت اس عالم اور اُس عالم میں ظاہر کرے۔ یہ دعا حضور تام سے ہونی چاہئے جیسے کوئی اپنی مصیبت کے وقت حضور تام سے دعا کرتا ہے بلکہ اُس سے بھی زیادہ تضرع اور التجا کی جائے اور کچھ اپنا حصہ نہیں رکھنا چاہئے کہ اس سے مجھ کو یہ ثواب ہوگا یا یہ درجہ ملے گا بلکہ خالص یہی مقصود چاہئے کہ برکات کاملہ الہیہ حضرت رسول مقبول پر نازل ہوں اور اُس کا جلال دنیا اور آخرت میں چمکے اور اسی مطلب پر انعقاد ہمت چاہئے ۔ اور دن رات دوام توجہ چاہئے یہاں تک کہ کوئی مراد اپنے دل میں اس سے زیادہ نہ ہو۔ پس جب اس طور پر یہ درود شریف پڑھا گیا تو وہ رسم اور عادت سے باہر ہے اور بلا شبہ اس کے عجیب انوار صادر ہوں گے اور حضور تام کی ایک یہ بھی نشانی ہے کہ اکثر اوقات گریہ و بکا ساتھ شامل ہو ۔ اور یہاں تک یہ توجہ رگ و ریشہ میں تاثیر کرے کہ خواب اور بیداری یکساں ہو جاوے ۔ علی ھذا القیاس۔ نماز جس کیلئے خداوند کریم نے صدہا مرتبہ قرآن شریف میں تاکید فرمائی ہے اور اپنے تقرب کیلئے فرمایا ہے ۔ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة کے یہ بیجا رسم اور عادت کے پیرا یہ میں کچھ چیز نہیں ہے۔ اس میں بھی ایسی صورت پیدا ہونی چاہئے کہ مُصلّی اپنی صلوۃ کی حالت میں ایک سچا دعا کنندہ ہو۔ سونماز میں بالخصوص دعائے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ " میں دلی آہوں سے، دلی تضرعات سے، دلی خضوع سے، سچے دلی سے، سچے دلی جوش سے سے حضرت احدیت کے احدیت کا فیض طلب کرنا چاہئے اور اپنے تیں ایک مصیبت زدہ اور عاجز اور لا چار سمجھ کر اور حضرت احدیت کو قادر مطلق اور رحیم کریم یقین کر کے رابطہ محبت اور قرب کیلئے دعا کرنی چاہئے ۔ اُس جناب میں خشک ہونٹوں کی دعا قابل پذیرائی نہیں ۔ فیضانِ سماوی کیلئے سخت بیقراری اور جوش و گریہ وزاری شرط ہے۔ اور نیز استعداد قریبہ پیدا کرنے کیلئے اپنے دل کو ماسوا اللہ کے شغل اور فکر سے بکلی خالی اور پاک کر لینا چاہئے ۔ کسی کا حسد اور نقار دل میں نہ رہے۔ بیداری بھی پاک باطنی کے ساتھ ہو اور خواب بھی۔ بے مغز باتیں سب فضول ہیں اور جو عمل روح کی روشنی سے نہیں وہ تاریکی اور ظلمت ہے۔ خذوا التوحيد والتفريد والتمجيد وموتوا قبل ان تموتوا ۔ آج حسب تحریر آپ کی ہر سہ حصہ روانہ کئے گئے (۱۵ اپریل ۱۸۸۳ء مطابق ۷ ار جمادی الثانی ۱۳۰ھ ) الفاتحه : ٦ الحکم ۱۳۶ استمبر ۱۸۹۸ ء صفحہ ۷ البقرة : ٤٦