مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 513
مکتوبات احمد الله جلد اول جاہلوں کی طرح شک میں پڑے۔ سو اگر اس عاجز کی فریادیں رب العرش تک پہنچ گئی ہیں تو وہ زمانہ کچھ دور نہیں جو نور محمدی اس زمانہ کے اندھوں پر ظاہر ہو اور الہی طاقتیں اپنے عجائبات دکھلا دیں ۔ اس عاجز کے صادق دوستوں کی تعداد ا بھی تین چار سے زیادہ نہیں جن میں سے ایک آپ ہیں اور باقی لوگ لا پروا اور غافل ہیں بلکہ اکثروں کے حالات ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ وہ اپنی تیرہ باطنی کے باعث سے اس کا رخانہ کو کسی مکر اور فریب پر مبنی سمجھتے ہیں اور اس کا مقصود اصلی دنیا ہی قرار دیتے ہیں کیونکہ خود جیفہ دُنیا میں گرفتار ہیں ۔ اس لئے اپنے حال پر قیاس کر لیتے ہیں ۔ سوان کی روگردانی بھی خداوند کریم کی حکمت سے باہر نہیں ۔ اس میں بھی بہت سی حکمتیں ہیں جو پیچھے سے ظاہر ہوں گی ۔ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰی ۔ مگر اپنے دوستوں کی نسبت اس عاجز کی یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کو اُن کے صدق کا اجر بخشے اور اُن کو اپنی استقامت میں بہت مضبوط کرے چونکہ ہر طرف ایک زہرناک ہوا چل رہی ہے اس لئے صادقوں کو کسی قد رغم اُٹھانا پڑے گا اور اُس غم میں اُن کے لئے بہت اجر ہیں ۔ ぢー (۹) رفروری ۱۸۸۳ء مطابق ۳۰ ربیع الاول ۱۳۰۰ھ ) *۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔*