مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 507
مکتوبات احمد ۵۰۷ جلد اول بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ۔ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي مکتوب نمبرا مکرمی مخدومی میر عباس علی صاحب زَادَ عِنَايَتُه - السلام علیکم و و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ آپ کا کا عنایت نامہ پہنچ کر با باعث خو باعث خوشی ہوا ۔ جزا جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْراً ۔ آپ اللہ اور رسول ، اللہ اور رسول کی محبت میں جس قدر کوشش کریں وہ جوش خود آپ کی ذات میں پایا جاتا ہے ۔ حاجت تاکید نہیں ۔ چونکہ یہ کام خالصاً خدا کیلئے اور خود حضرت احدیت کے ارادہ خاص سے ہے اس لئے آپ اس کے خریداروں کی فراہمی میں یہ ملحوظ خاطر شریف رکھیں کہ کوئی ایسا خریدار شامل نہ ہو جس کی محض خرید فروخت پر نظر ہو۔ بلکہ جو لوگ دینی محبت سے مدد کرنا چاہتے ہیں اُنہیں کی خریداری مبارک اور بہتر ہے کیونکہ در حقیقت یہ کوئی خرید فروخت کا کام نہیں بلکہ سرمایہ جمع کرنے کیلئے یہ ایک تجویز ہے ۔ مگر جن کا اصول محض خریداری ہے ۔ اُن سے تکلیف پہنچتی ہے اور اپنے روپیہ کو یاد دلا کر تقاضا کرتے رہتے ہیں ۔ سوایسے صاحب اگر خریداری کے سلسلہ میں داخل نہ ہوں اور نہ وہ روپیہ بھیجیں اور نہ کچھ مدد کریں تو یہ اُن کے لئے اس حالت سے بہتر ہے کہ کسی وقت بدگمانی اور شتابکاری سے پیش آئیں ۔ اس کام میں جیسے جیسے عرصہ میں خداوند کریم سرمایہ کافی کسی حصہ کے چھپنے کیلئے حسب حکمت کا ملہ خود میسر کرتا ہے اُسی عرصہ میں یہ کتاب چھپتی ہے۔ پس کسی وقت کچھ دیر ہوتی ہے تو بعض صاحب جن کی خریداری پر نظر ہے۔ طرح طرح کی باتیں لکھتے ہیں جن سے رنج پہنچتا ہے ۔ غرض آن مخدوم اسی سعی اور کوشش میں خدا وند کریم پر تو گل کر کے صادق الارادت لوگوں سے مدد لیں ۔ اور اگر ایسے نہ ملیں تو آپ کی طرف سے دعا ہی مدد ہے۔ ہم عاجز اور ذلیل بندے کیا حیثیت اور کیا قدر رکھتے ہیں ۔ وہ جو قادر مطلق ہے ۔ وہ جب چاہے گا تو اسباب کا ملہ خود بخود میسر کر دے گا۔ کونسی بات ہے جو اُس کے آگے آسان نہ ہوئی ہو۔ ( ۲۸ راکتو بر ۸۲، مطابق ۱۵ رذی الحجہ ۱۲۹۹ هجری )