مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 456

مکتوبات احمد ۴۵۶ جلد اول کرو۔ مرزا مسیلمہ ہے ، اسود عنسی ہے، کذاب ہے ، مفتری ہے۔ دجال ۔ نعوذ باللہ منہا۔ مولوی صاحب پر ایک تو یہ وبال پڑا اور دوسرا و بال یہ پڑا کہ مجدد کہلایا ۔ اس وبال و نکال کا یہ نتیجہ ہوا کہ بیوی مری ۔ بیٹا مرا۔ دو بیٹوں کی بیویاں مریں ۔ صرف اکیلا رہ گیا۔ پھر نابینا ہو گیا اور مریں۔ ہوگا حدیث جو پڑھایا کرتا تھا وہ پڑھانا جاتا رہا ۔ کئی ایک مرید جو اس کے تھے اور بڑے تھے مر گئے اور سارا کارخانہ درہم برہم ہو گیا۔ اور مولوی عبدالقادر صاحب جو ان کے مرید اور خلیفہ تھے ۔ وہ حضرت اقدس علیہ السلام کے مرید ہو گئے ۔ اس پر مولوی گنگوہی کو سخت ہم وغم ہوا ۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے مباہلہ کے لئے بھی بہت مولوی رشید احمد متوفی سے تحریری اور زبانی کہا لیکن مباہلہ نہ کیا اور ایک وبال مولوی صاحب پر یہ پڑا کہ بار باران کی زبان سے نکلا کہ جیسے الہام مرزا غلام احمد قادیانی کو ( علیہ الصلوۃ والسلام ) ہوتے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر ہمارے مریدوں کو بھی ہوا کرتے ہیں ۔ گویا مفتری علی اللہ بھی بنا۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے اشتہار دیا تھا کہ مولوی رشید احمد گنگوہی اور احمد اللہ امرتسری اور رسل با با و غیر هم مجھ سے مباہلہ کر لیں ۔ گیارہ عذابوں میں سے ایک عذاب ضرور ان پر، اگر یہ مقابلہ مباہلہ نہ کریں گے، پڑے گا ۔ منجملہ ان عذابوں کے ایک یہ عذاب تھا کہ سانپ کاٹے اور پھر وہ جانبر نہ ہو سکے ۔ مولوی رشید احمد گنگوہی متوفی کو سانپ نے کاٹا۔ حالانکہ مولوی صاحب کو سانپ کے کاٹے کا علاج دعوئی سے تھا اور سینکڑوں کوس تک ان کا پڑھا پانی جاتا تھا۔ لیکن یہ عذاب الہی تھا اور سانپ نہیں تھا ۔ بلکہ غلاظ شداد فرشتوں سے ایک فرشتہ تھا اور سانپ کے ڈسنے کے بعد تین چار روز تک زندہ بھی رہا ۔ لیکن اسی زہر سے مر گیا ۔ خدا تعالیٰ نے دکھا دیا کہ اب یہ مامور ومرسل کی مخالفت کا عذاب ٹل نہیں سکتا۔ ان کے مرنے سے تین ماہ یا دو ماہ پیشتر مجھے ایک کشفی نظارہ میں دکھائی دیا کہ راستہ میں ایک مکان کو چھوڑ کر بُرے کپڑے پہنے ہوئے مولوی رشید احمد زمین پر لیٹ گئے ہیں ۔ میں نے یہ کشف حضرت اقدس علیہ السلام سے بیان کیا اور اس وقت حضرت فاضل امر وہی بھی تشریف رکھتے تھے ۔ حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ مولوی صاحب کی موت آگئی ۔ سو ایسا ہی واقعہ ہوا ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ ۔ ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆