مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 433

مکتوبات احمد ۴۳۳ جلد اول شد و مد سے شرح وبسط سے تصنیف کی ہیں اور روز بروز ان کے سلسلہ کو ترقی ہے اور معتبر طور سے معلوم ہے کہ چودہ عالم فاضل متجر آج تک ان کی جماعت میں داخل ہو گئے ہیں ۔ یہ عجیب انقلاب دیکھ کر حق کے طالب نہایت حیرت میں ہیں کہ ایک طرف تو ان کی جماعت ترقی پر ہے اور دوسری طرف مشاہیر علماء اور اکا بر صوفیاء کنارہ کش ہیں ۔ اگر کوئی مولویوں میں سے بحث کرنے کے لئے آتا بھی ہے تو مغلوب ہو کر ایک طور سے اور بھی زیادہ ان کے سلسلہ کو تائید پہنچاتا ہے جیسا کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو پنجاب میں مشہور عالم ہیں ۔ بحث کرنے کے لئے آئے جس کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی کمزوری اور گریز کو دیکھ کر اور بھی کئی شخص ان کی جماعت میں داخل ہو گئے اور ایک بڑی خجالت کی یہ بات ہوئی کہ مرزا صاحب نے روحانی طور پر بھی ایک تصفیہ کی درخواست کی کہ تم بھی دعا کرو اور ہم بھی دعا کریں تا مقبول اور اہل حق کی تائید میں آسمانی نشان ظاہر ہو۔ لیکن مولوی محمد حسین صاحب نے اس طرف رخ بھی نہ کیا ۔ اب التماس یہ ہے کہ آپ اکا برجلیل القدر صوفیاء اور صاحب عرفان اور صاحب سلسلہ اور فاضل اور مشاہیر علماء سے ہیں ۔ آپ سے بڑھ کر اور کس کا حق ہے کہ دونوں طریق سے یعنی ظاہری اور باطنی طور پر آپ مرزا غلام احمد صاحب سے مقابلہ اور مواز نہ کریں اور دونوں طور سے بحث کرنے کے لئے تشریف لاویں۔ ہم نے مرزا صا۔ لاویں۔ ہم نے مرزا صاحب سے منظور کرالیا ہے کہ ہم ( جن کے نام خط ہے ) بلواتے ہیں ۔ وہ آپ سے دونوں طور ظاہری و باطنی سے مقابلہ کریں گے اور وہ حضرت عیسی مسیح علیہ السلام کے زندہ بجسم عنصری آسمان پر اُٹھائے جانے اور اب تک زندہ ہونے اور آخری زمانہ میں نزول از آسمان کرنے پر دلائل قاطعہ اور نصوص صریحہ اور احادیث صحیحہ پیش کریں گے اور نیز باطنی طور پر اپنی کچھ کرامات بھی دکھائیں گے ۔ پھر اگر آپ نے ( جن کے نام خط ہے ) اُن سے دونوں طور ظاہری اور باطنی میں مقابلہ نہ کیا اور بھاگ گئے تو ہم سخت مخالف بن کر آپ کی اس ہزیمت کو شہرت دیں گے بلکہ ہم نے مرزا صاحب سے لکھوا لیا ہے جس کی نقل آپ کی خدمت میں بھیجی جاتی ہے اور ہم نے حلف کے طور پر وعدہ کر لیا ہے ۔ ضرور وہ صاحب ( جن کے نام خط ہے ) ان دونوں طور کی بحثوں کے لئے لودہا نہ میں تشریف لے آئیں گے ۔ کیونکہ نازک وقت پہنچ گیا تھا اور لوگ جوق در جوق ان کی پیروی اختیار کرتے