مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 416
مکتوبات احمد ۴۱۶ جلد اول سارے کا سارا محکمہ نہر میں ملازم تھا۔ اس خاندان سے ارادت رکھتا اور ان کی ناز برداری کرتا تھا۔اس خاندان میں سے حافظ محمد یوسف ضلعدار اور ان کے بھائی محمد یعقوب صاحب اپنے مرشد مولوی عبداللہ صاحب کی ہدایتوں کے ماتحت حضرت اقدس سے ارادت رکھتے تھے۔ اس لئے آپ کے دعوی کے بعد غزنوی جرگہ سے ان کے اختلافات بڑھتے گئے ۔ اسی غزنوی جرگہ میں ایک شخص عبد الحق غزنوی بھی تھا۔ بعض اسے اسی خاندان کا ایک فرد سمجھتے تھے اور بعض شاگرد ۔ بہر حال وہ اسی جرگہ میں ملا جلا تھا اور صوفی اور صاحب الہام مشہور تھا۔ سارے غزنوی طائفہ کے خلاف اس نے سلسلہ احمدیہ کی مخالفت میں اقدام کیا اور کچھ الہامات شائع کئے اور مباہلہ کا اعلان کر دیا۔ یہ حضرت کے دعوی کے ابتدائی ایام کی بات تھی ۔ حضرت اقدس اس اختلاف کو ایک اختلافی مسئلہ تو قرار دیتے مگر مباہلہ کے لئے سند چاہتے تھے۔ اسی سلسلہ میں یہ خط مولوی عبد الجبار صاحب کو لکھا گیا ۔ میرا کا یہ ) ا تعلق اس اشتہار سے حضرت اقدس کا یہ (اشتہار ) ریاض ہند امرتسر اور پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں شائع ہوا۔ میں اس وقت لاہور کے ماڈل سکول میں فورتھ ہائی کا طالب علم تھا۔ حضرت صاحب کی بیعت تو میں ۱۹ میں کر چکا تھا مگر وہ ایک رسمی اور تقلیدی بیعت تھی گوحسن عقیدت سے ہی تھی مگر اس کے بعد لاہور آجانے کی وجہ سے میرا چنداں تعلق نہ رہا۔ ہاں بدستور حسن ظن اور اعتقاد حضرت کی نسبت قائم تھا اور میں پیسہ اخبار لاہور کیلئے ( جس کا میں ۱۸۸۷ء سے خریدار تھا ) خبروں اور بعض کہانیوں کا ترجمہ فارغ وقت میں کیا کرتا تھا اور پیسہ اخبار کے دفتر میں ایک مولوی سید احمد لکھنوی اور منشی اللہ دتہ صاحب سیالکوٹی بھی کام کرتے تھے ۔ مارچ ۱۸۹۱ء کے پہلے یا دوسرے ہفتہ کا واقعہ ہے کہ پنجاب گزٹ سیالکوٹ میں یہ خط اس عنوان سے شائع ہوا ۔ ” آنے والا مسیح آگیا ہے جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے اور جس کے کان سننے کے ہوں سنے، منشی محبوب عالم ایڈیٹر پیسہ اخبار جانتے تھے کہ میں مذہبی آدمی ہوں اور بارہا انہوں نے مجھے انارکلی میں عیسائیوں اور آریوں کے خلاف لیکچر دیتے اور مباحثہ کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے مجھے اور مولوی سید احمد اور منشی الہ دتا کو بلایا اور کہا کہ ایک نئی خبر سناتا ہوں ۔ اس پر انہوں نے یہ مضمون سنایا۔