مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 415 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 415

مکتوبات احمد ۴۱۵ جلد اول مولوی عبدالجبار صاحب غزنوی کے نام (تعارفی نوٹ ) اس مکتوب کے ساتھ سلسلہ کی اور خاکسار عرفانی کبیر کی تاریخ کا دلچسپ تعلق ہے اس لئے میں اس مکتوب کو درج کرنے سے پہلے اس تعارفی نوٹ کو کسی قدر تفصیل سے لکھوں گا اور میرا یہ بھی مقصد ہے کہ تاریخ سلسلہ کے آنے والے مورخ کے لئے آسانی ہو۔ مولوی عبد الجبار صاحب غزنوی حضرت مولوی عبداللہ غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند اکبر تھے ۔ مولوی سید عبداللہ صاحب اہل اللہ میں سے تھے اور متبع کتاب وسنت تھے ۔ ان کے اہلِ وطن نے ان پر کفر کا فتوی دیا اور اپنے ملک سے جلا وطن کیا۔ وہ امرتسر کے قریب موضع خیر دی میں رہتے تھے اور لوگوں میں ان کے تقویٰ اور توکل علی اللہ کا شہرہ تھا۔ مولوی محمد حسین صاحب کو بھی ان سے ارادت تھی ۔ حضرت مسیح موعود بھی ابتدائی زمانہ میں ان کے پاس گئے تھے اور مولوی عبداللہ صاحب کو آپ کے مقام رفیع کی اطلاع بھی ملی تھی ۔ ابتدا حضرت کے ساتھ جن لوگوں نے تعلق ارادت پیدا کیا ۔ ان میں ایک حصہ حضرت مولوی عبداللہ صاحب کے مریدوں میں سے آیا تھا ۔ ان کو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ قادیان میں ایک نور چمکے گا اور میری اولاد اس سے محروم رہے گی ۔ مولوی محمد حسین صاحب کی علمی پردہ دری کی بھی انہوں نے با علام الہی خبر دی تھی ۔ ی غرض مولوی عبد الجبار صاحب ان کے ہی خلف اکبر تھے اور ان کے صاحبزادہ مولوی داؤ د غزنوی اب تک کانگریس کے داعی تھے اور مسلم لیگ کے مخالف مگر جولائی ۱۹۲۶ء میں انہوں نے یکا یک پینترا بدلا اور جس لیگ کی مخالفت کرتے تھے اس میں شریک ہو گئے ۔ شائد کہ ہمیں بیضہ برآرد پر و بال ۔ مولوی عبد الجبار صاحب ایک عالم تھے اور اپنی جماعت کے سردار ۔ داروغہ محمد عمر صاحب حسین پوری نے امرتسر میں ان لوگوں کے لئے ایک مسجد تعمیر کر دی تھی اور انکا خاندان جو