مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 413

مکتوبات احمد ۴۱۳ جلد اول مکتوب نمبر ۸ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ دوست میرے دوست جناب مولوی امام الدین صاحب سلمه تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنائت نامہ پہنچا۔ میں افسوس سے لکھتا ہوں کہ بباعث بعض موسمی بیماریوں کے آپ کے خط کا جواب لکھنے سے قاصر ہوں ۔ دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ آپ کو خوش رکھے اور بوجہ ضعف بشریت ایک غلطی جو آپ کے خیال پر غالب آ رہی ہے، اس کو رفع دفع فرمادے کہ ہر ایک ہدایت اسی کی طرف سے ہے۔ اور انشاء اللہ میرا ارادہ ہے کہ براہین احمدیہ کے کسی محل پر آپ کا جواب الجواب لکھوں ۔ نہ بحث کی غرض سے بلکہ اس غرض سے کہ ہادی مطلق اس کے ذریعہ سے آپ کو رہنمائی کرے ۔ مگر میرے نزدیک اس سے پہلے مناسب ہے کہ آپ بائیل کے ان مقامات کی صاف طور پر تشریح کر دیں جن سے نہ صرف یہ بات قطعاً معلوم ہوتی ہے (کہ ) وه قصص و احکام خدا تعالیٰ کا کلام نہیں بلکہ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی عقلمند و متقی و دیندار کا بھی وہ کلام نہیں ہو سکتا ۔ بائیبل میں بعض بیانات عقل وطبعی کے برخلاف ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کے تقدس اور اس کی پاک تعلیم کے برخلاف اور بعض اس کے انبیاء کی شان کے برخلاف اور بعض ایسے امور ہیں جو حال کی تحقیقاتوں سے جھوٹے ثابت ہو گئے ۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن شریف اجمالی طور پر تمام امور ضرور یہ علمی و عملی کا جامع اور تمام معارف و حقائق پر بطور ایجاز وا جمال مشتمل ہے اور خدا تعالیٰ نے تفصیل کا حوالہ اپنے رسول کی طرف کر دیا ہے۔ جہاں فرمایا ہے کہ جو کچھ رسول دے وہ لے لو اور جس چیز سے منع کرے اس سے باز آجاؤ اور اگر فرض کے طور پر یہ خیال کیا جاوے کہ بغیر بائیل کے تکمیل قرآن شریف نہیں ہو سکتی اور اگر بائیبل کو قرآن شریف کے ساتھ پڑھا جائے تو پھر کوئی حکم اور دینی صداقت باہر نہیں رہے گی تو یہ بھی خیال خام اور گمان باطل ہے اور اگر آپ کو سیر احادیث نبویہ ہو تو کس قد رصد با جزئیات متعلق حقوق عباد و معاملات و حقوق باری عزاسمہ وغیرہ اس میں مندرج ہیں اور پھر کس قد رفقہا نے ان جزئیات کی تشریح کرنے کے وقت اجتہاد سے کام لیا ہے اور کس قدر مسائل پیدا ہو گئے ہیں