مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 401
مکتوبات احمد ۴۰۱ جلد اول اس مکتوب میں آپ نے براہین احمدیہ کی قیمت کی واپسی کے متعلق اشتہار مندرجہ سرمہ چشم آریہ کا بھی حوالہ دیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شائد تاریخوں میں کچھ غلطی ہوئی ہو ۔ مگر اس سے نفس واقعہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس وقت یہ خط لکھ رہے تھے اس وقت آپ نے کوئی خاص دعوی بجز به حیثیت مجدد مامور ہونے کے نہ کیا تھا۔ بلکہ آپ بیعت بھی نہ لیتے تھے اور لوگ التجا کرتے تھے تو آپ لَسْتُ بِمَا مُورِ یعنی میں مامور نہیں ہوں ، فرما دیا کرتے تھے۔ بہر حال حاجی صاحب سے یہ خط و کتابت ہوئی اور حاجی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں ۲۲ جنوری ۱۸۸۵ء کو ایک مکتوب لکھا۔ جس میں انہوں نے اظہار ندامت کیا۔ ان خطوط کے اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حاجی صاحب نے اولاً حضرت اقدس کو ایک خط ایسے طور پر لکھا جس میں آپ کے بعض مضامین کو غلط فہمی سے نیچریت کا نتیجہ سمجھا ۔ جب حضرت اقدس نے اپنے مقام اور دعوی کی صراحت فرمائی تو حاجی صاحب پر انکشاف حقیقت ہوا ۔ مگر بعد میں انہیں پھر براہین کے توقف پر اعتراض ہوا تو حضرت اقدس نے یہ جواب دیا ۔ حاجی صاحب کے مکتوب مورخہ ۲۴ جنوری ۱۸۸۵ ء کو بھی میں یہاں درج کر دینا ضروری سمجھا ہوں ۔ ( عرفانی کبیر ) ☆۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔☆