مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 371
مکتوبات احمد ۳۷۱ جلد اول مکتوب نمبر ۲۵ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ کیا محمد حسین بٹالوی ایڈیٹر اشاعۃ السنہ کو عدالت صاحب ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپور میں کرسی ملی؟ راستی موجب رضائے خدا است ) نہایت افسوس ہے کہ اس زمانہ کے بعض نام کے مولوی محض اپنی عزت بنانے کے لئے یا کسی اور غرض نفسانی کی وجہ سے عمداً جھوٹ بولتے ہیں اور اس بدنمونہ سے عوام کو طرح طرح کے معاصی کی جرات دیتے ہیں کیونکہ جھوٹ ام الخبائث ہے اور جب کہ ایک شخص مولوی کہلا کر کھلی کھلی بے شرمی سے جھوٹ بولنا اختیار کرے تو بتلاؤ کہ عوام پر اس کا کیا اثر ہوگا ۔ ابھی کل کی بات ہے کہ بے چارہ میاں شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ کو بمقام بٹالہ کرسی مانگنے سے کپتان ایم ڈبلیوڈ گلس صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے تین مرتبہ تین جھڑ کیاں دیں اور کرسی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ ” ” بک وو وو 66 بک مت کر اور پیچھے ہٹ اور سیدھا کھڑا ہو جا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ”ہمارے پاس تمہارے ہو اور یہ کہ کرسی ملنے کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں، لیکن نہایت افسوس ہے کہ شیخ مذکور نے جا بجا کرسی کے بارے میں جھوٹ بولا ۔ کہیں تو یہ مشہور کیا کہ مجھے کرسی ملی تھی اور کسی جگہ یہ کہا کہ کرسی دیتے تھے مگر میں نے عمد انہیں لی اور کسی جگہ یہ افترا کیا کہ عدالت میں کرسی کا ذکر ہی نہیں آیا۔ چنانچہ آج میری طرف بھی اس مضمون کا خط بھیجا ہے کہ گویا اس کا کرسی مانگنا اور کرسی نہ ملنا اور بجائے اس کے چند جھڑکیوں سے پیچھے ہٹائے جانا یہ باتیں غلط ہیں ۔ ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنة الله على الكاذبین ۔ ہم ناظرین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ بات فی الواقع سچ ہے کہ شیخ مذکور نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے کرسی مانگی تھی اور اس کا اصل سبب یہی تھا کہ مجھے اُس نے صاحب