مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 370
مکتوبات احمد ٣٧٠ جلد اول قطب الدین صاحب دوبارہ میرے پاس آئے ہیں اور آپ کی اس چال کو میرے سمجھانے سے سمجھ گئے ہیں ۔ اور اس وجہ سے اس خط کے ذریعہ میرا پیام دوبارہ پہنچانے کا وعدہ کر گئے ہیں ۔ آپ نے کتاب البریہ کے صفحہ ۱۱ و ۱۴ و ۱۵ میں تین دعوے کئے ہیں ۔ اوّل یہ کہ محمد حسین نے صاحب ڈپٹی کمشنر سے کرسی طلب کی۔ اور کہا کہ اس کو عدالت میں کرسی ملتی ہے اور اُس کے باپ کو عدالت میں کرسی ملتی تھی ۔ جس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے اُس کو تین جھڑ کیاں دیں اور کہا کہ تو جھوٹا ہے۔ بک بک مت کر ۔ دوسرا یہ دعویٰ کہ پھر وہ باہر کے کمرہ میں ایک کرسی پر جا بیٹھا۔ تو کپتان صاحب پولیس کی نظر اس پر جاپڑی اور اُس وقت کنسٹبل کی معرفت جھڑ کی کے ساتھ اس کرسی سے اُٹھایا گیا۔ تیسرا دعوئی یہ ہے کہ پھر وہ ایک شخص کی چادر لے کر اس پر بیٹھ گیا تو اُس شخص نے چادر نیچے سے کھینچ لی ۔ اور کہا کہ ایک مذہبی مقدمہ میں جو بناوٹی ہے پادریوں کی گواہی دیتا ہے۔ اور میری چادر پر بیٹھتا ہے۔ میں اپنی چادر پلید کرانی نہیں چاہتا۔ میرے نزدیک یہ تینوں دعوے محض دروغ ہیں جس میں راستی کا شمہ دخل اور شائبہ بھی نہیں ہے ۔ آپ ان دعووں میں سچے ہیں تو ایک جلسہ عام میں ( جو بمقام لاہور یا گورداسپور یا بٹالہ ہو ) ان ہی لوگوں میں سے جن کے نام اپنے خط میں درج کئے ہیں صرف دو یا تین اشخاص کو جن کو میں منتخب کروں پیش کریں۔ اور اُن سے شہادت دلوائیں ۔ پس اگر وہ آپ کے بیان الفاظ کی تصدیق کریں تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اپنے آپ کو آپ کے مقابلہ میں شکست یافتہ سمجھ کر آئندہ آپ کے رڈو جواب سے قلم و زبان کو بند کرلوں گا۔ اور اگر ان گواہوں نے کو آپ کے بیان والفاظ کی تصدیق نہ کی تو اس صورت میں آپ اپنے ملحدانہ دعاوی ، مسیحائی ، مجدّدیت، مہدویت ، نبوت وغیرہ سے تائب ہو کر خالص اسلام کے پابند ہو جائیں گے۔ پیام یہ تھا جس کے جواب میں آپ نے صرف دعوی ہی ( مطابق اصل ) کر دیا اور نہ سوچا کہ دعوی تو آپ نے پہلے میں بھی کیا تھا۔ اُس دعوی کا ثبوت بذریعہ شہادت مطلوب تھا ۔ نہ اعادہ دعوی ۔ اب بھی آپ توجہ کریں اور جواب بمطابق سوال دیں ورنہ آپ کا خط اور یہ جواب عنقریب رسالہ میں مشتہر ہوگا۔ راقم آپ کا خیر خواہ قدیم ابو سعید محمد حسین ( نقل مطابق اصل ) یہ مولوی صاحب کی انشا پردازی ہے ۔ ایڈیٹر ۔ جی الحکم ۶ مارچ ۱۸۹۸ء صفحه ۴، ۵