مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 368

مکتوبات احمد ۳۶۸ جلد اول ایسی پیشگوئی کا ظاہر ہونا جو غیب پر مشتمل ہو۔ اُس کے سچا ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ پر بہت افسوس ہے کہ اب تک آپ نے نہ نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ سے فائدہ اُٹھایا اور نہ عقل خدا داد سے کام لیا اور نہ آسمانی نشانوں سے ، جو میرے ہاتھ پر یا میرے لئے ظاہر ہوئے ، ہدایت پائی۔ احمد بیگ کی وفات سے لے کر لیکھرام کی موت تک ایک لمبا سلسلہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کا تھا، لیکن کسی نشان نے آپ کو فائدہ نہ دیا۔ آفتاب ماہتاب بھی رمضان میں منکسف ہوئے مگر آپ نے کچھ پرواہ نہ کی ۔ آپ نے انسانیت اور ٹھنڈے مزاج سے اپنے شبہات کو دور نہ کرایا۔ صدی میں بھی چودہ برس گزر گئے ۔ مگر آپ نے کسی مجدد کا پتہ نہ دیا جوفتن موجودہ کی اصلاح کے لئے کھڑا ہوا ہو۔ میں نے مباہلہ کے ساتھ بھی آپ سے فیصلہ کرنا چاہا مگر آپ وہاں سے بھی بھاگ گئے ۔ خدا تعالیٰ آپ کے حال پر رحم کرے۔ اب تو انتہا تک آپ کی نوبت پہنچ گئی ۔ آپ کہتے تھے کہ میں نے ہی تم کو اونچا کیا اور میں ہی گراؤں گا ۔ آپ کو سوچنا چاہیے کہ اس فضول گوئی میں کیسے آپ جھوٹے نکلے ۔ کیا میں نے الہام کا دعوئی آپ کے صلاح مشورہ سے کیا تھا۔ کیا میں نے کبھی آپ پر بھروسہ رکھا یا آپ کو کچھ چیز سمجھا؟ اور اب مختلف شہروں اور قریب اور ڈور کے ملکوں کے صد ہا آدمی اس جماعت میں داخل ہو رہے ہیں ۔ سو دیکھو ۔ خدا تعالیٰ نے کیسے آپ کے غرور کو توڑا کہ میں ہی گرا دوں گا۔ سچ ہے کہ آپ نے تو کسی چال بازی میں کسر نہ کی ۔ مگر ہر ایک حملہ کے وقت آپ ہی کو ذلت دیکھنی پڑی ۔ پادریوں کے مقدمہ میں آپ نہایت ناز سے دامن کشاں کچہری میں پہنچے کہ تا میری ذلت دیکھیں مگر خدا تعالیٰ نے میرے روبرو اور میری جماعت کے رو برو آپ کو ذلیل کیا ۔ آپ کا کرسی طلب کرنا اور پھر صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کا تین جھڑ کیاں دے کر کرسی سے محروم رکھنا ۔ یہ کیسی ذلت تھی کہ جو میرے روبرو میری جماعت کے رو برو منشی غلام حیدر خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ ضلع کے رو برو ، مولوی فضل الدین صاحب پلیڈر کے رُوبرو، لالہ رام بھیج دت وکیل کے روبرو اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے اردلیوں کے رو برو آپ کو نصیب ہوئی ۔ یہاں تک کہ مجھے بھی آپ کی اس حالت پر رحم آیا۔ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ذلت تھی یا کچھ اور تھا ۔ آپ مجھے مفتری کہتے ہیں مگر بتلا نہیں سکتے کہ کیا ابتدا دنیا سے آج تک کوئی ایسا مفتری آپ نے دیکھا جس کو خدا تعالیٰ نے روزِ دعویٰ الہام سے میری طرح پچپی ۲۵ برس تک مہلت دی ہو ۔ جو خدا پر افترا کرے وہ تو کتے کی عمر بھی نہیں پاتا اور جلد پکڑا جاتا ہے اور ہلاک