مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 367
مکتوبات احمد ۳۶۷ جلد اول ہر دو خطوں کو ذیل میں چھاپ دیتے ہیں ۔ حضرت مسیح الزمان نے اُسی روز میاں محمد حسین بٹالوی کے خط کے جواب میں ایک اشتہار چھاپ دیا ہے ۔ جس کو اسی سلسلہ خط و کتابت میں ہم درج کرتے ہیں ۔ ایڈیٹر مکتوب نمبر ۲۴ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمد لله والسلام على عباده الذين اصطفى شیخ بٹالوی محمد حسین صاحب ! هداكم الله نے علاوہ کئی الفاظ علاوہ کئی الفاظ سب و مجھے زبانی حبی فی اللہ مولوی قطب الدین صاحب معلوم ہوا کہ مولوی صاحب موصوف کسی مصلحت سے آپ کے مکان پر گئے اور ہمدردی انسانی سے چاہا کہ آپ کو حق کی طرف دعوت کریں مگر آپ ، وشتم کے جو میری نسبت استعمال کئے ۔ یہ بھی کہا کہ میں نماز میں اُن پر لعنت بھیجا کرتا ہوں ۔ ان تمام باتوں کے سننے سے اگر چہ آپ کی صلاحیت سے نومیدی ہوتی ہے مگر جیسا کہ میں نے بعض بشارات میں دیکھا ہے ۔ امید کی جاتی ہے کہ آپ پر عنقریب وہ زمانہ بھی آ وے کہ آپ کی آنکھ کھلے اور آپ ان گستاخیوں اور شوخیوں اور بداندیشیوں سے توبہ کریں ۔اس لئے میں نے ایک ضروری امر پر آپ کو مطلع کرنے کے لئے یہ چند سطریں لکھیں ہیں ۔ تا شاید کسی وقت یہ امر آپ کو کام آوے۔ اور آپ کی زیادہ بصیرت کا موجب ہو ۔ اور وہ یہ ہے کہ چند متواتر الہامات اور رویا سے مجھے معلوم ہوا کہ عنقریب ایک نشان خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والا ہے۔ جو بہت سے لوگوں کو میری طرف کھینچے گا۔ اور اُس دن بہت سے نیک دل انسان سچائی کو پہچان لیں گے۔ میری اس تحریر کو آپ محفوظ رکھیں ۔ میں چند کسی معزز گواہوں کی شہادت اس پر ثبت کر کے آپ کے پاس بھیجتا ہوں اور اس کام پر محض ہمدردی نے مجھ کو آمادہ کیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ ، سو کسی شخص سے ا الجن: ۲۷، ۲۸