مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 290
مکتوبات احمد ۲۹۰ جلد اول حالت میں قرآن شریف ایسے جزیرہ میں نازل ہوا جس کے لوگ عموماً عیسائیوں اور یہودیوں کی کتابوں سے بے خبر تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود امی تھے تو پھر یہ تہمتیں آنجناب پر لگا نا ان لوگوں کا کام ہے جو خدا سے بالکل بے خوف ہیں ۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اعتراض ہو سکتے ہیں تو پھر حضرت عیسی پر کس قدر اعتراض ہوں گے جنہوں نے ایک اسرائیلی فاضل سے تو ریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا اور یہودیوں کی تمام کتابوں طالمود وغیرہ کا مطالعہ کیا تھا اور جن کی انجیل در حقیقت بائبل اور طالمود کی عبارتوں سے ایسی پڑ ہے کہ ہم لوگ محض قرآن شریف کے ارشاد کی وجہ سے ان پر ایمان لاتے ہیں ۔ ورنہ اناجیل کی نسبت بڑے شبہات پیدا ہوتے ہیں اور افسوس کہ انجیلوں میں ایک بات بھی ایسی نہیں کہ جو بلفظہ پہلی کتابوں میں موجود نہیں اور پھر اگر قرآن نے بائبل کی متفرق سچائیوں اور صداقتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا تو اس میں کونسا استبعاد عقلی ہوا اور کیا غضب آگیا ۔ کیا آپ کے نزدیک یہ محال ہے کہ یہ تمام قصے قرآن شریف کے بذریعہ وحی کے لئے گئے ہیں جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحب وحی ہونا دلائل قاطعہ سے ثابت ہے اور آپ کی نبوت حقہ کے انوار و برکات اب تک ظہور میں آ رہے ہیں تو کیوں شیطانی وساوس دل میں داخل کئے جاویں کہ نعوذ باللہ قرآن شریف کا کوئی قصہ کسی پہلی کتاب یا کتبہ سے نقل کیا گیا ہے۔ کیا آپ کو خدا تعالیٰ کے وجود میں کچھ شک ہے یا آپ اس کو علم غیب پر قادر نہیں جانتے ۔ اور میں بیان کر چکا ہوں کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا کسی کتاب کو اصلی قرار دینا اور کسی کو فرضی سمجھنا یہ سب بے بنیاد خیالات ہیں۔ نہ کسی نے اصلی کی اصلیت کا ملاحظہ کیا اور نہ کسی نے کسی جعل ساز کو پکڑا۔ اس کی نسبت نہ کسی خود یورپ کے محققین کی شہادتیں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ ایک اندھی قوم ہے جن میں ایمانی روشنی باقی نہیں رہی۔ اور عیسائیوں پر تو نہایت ہی افسوس ہے جنہوں نے طبعی اور فلسفہ پڑھ کر ڈ بود یا ۔ ایک طرف تو آسمانوں کے منکر ہیں اور ایک طرف حضرت عیسیٰ کو آسمان پر بٹھاتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر یہود کی پہلی کتابیں سچی ہیں تو ان کی بنا پر حضرت عیسی کی نبوت ہی ثابت نہیں ہوتی ۔ مثلاً سچے مسیح موعود کے لئے جس کا حضرت عیسیٰ کو دعویٰ ہے۔ ملا کی نبی کی کتاب کی رُو سے یہ ضروری تھا کہ اس سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آتا۔ مگر الیاس تو اب تک نہ آیا۔ درحقیقت یہودیوں کی طرف سے یہ بڑی حجت ہے جس کا جواب حضرت عیسیٰ صفائی سے نہیں دے سکے ۔ یہ قرآن شریف کا