مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 275

مکتوبات احمد ۲۷۵ جلد اول صاحب بینابیع الاسلام نے اگر یہ کوشش کی ہے کہ قرآن شریف فلاں فلاں قصوں یا کتابوں سے بنایا گیا ہے۔ یہ کوشش اس کی اس کوشش کے ہزارم حصہ پر بھی نہیں جو ایک فاضل یہودی ۔ انجیل کی اصلیت دریافت کرنے کیلئے کی ہے ۔ اس فاضل نے اپنے خیال میں اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ انجیل کی اخلاقی تعلیم یہودیوں کی کتاب طالمود اور بعض اور چند بنی اسرائیل کی کتابوں سے لی گئی ہے اور یہ چوری اس قدر صریح طور پر عمل میں آئی ہے کہ عبارتوں کی عبارتیں بعینہ نقل کر دی گئی ہیں اور اس فاضل نے دکھلا دیا ہے کہ در حقیقت انجیل مجموعہ مال مسروقہ ہے۔ درحقیقت اس نے حد کر دی اور خاص کر پہاڑی تعلیم کو جس پر عیسائیوں کو بہت کچھ ناز ہے ۔ طالمود سے اخذ کرنا لفظ بہ لفظ ثابت کر دیا ہے اور دکھلا دیا ہے کہ یہ طالمود کی عبارتیں اور فقرے ہیں اور ایسا ہی دوسری کتابوں سے یہ وہ مسروقہ عبارتیں نقل کر کے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ چنانچہ خود یورپ کے محقق بھی اس طرف دلچسپی سے متوجہ ہو گئے ہیں ۔ اور ان دنوں میں میں نے ایک ہندو کا رسالہ دیکھا ہے جس نے یہ کوشش کی ہے کہ انجیل بدھ کی تعلیم کا سرقہ ہے اور بدھ کی اخلاقی تعلیم کو پیش کر کے اس کا ثبوت دینا چاہا ہے اور عجیب تر یہ کہ بدھ لوگوں میں وہی قصہ شیطان کا مشہور ہے جو اس کو آزمانے کے لئے کئی جگہ لئے پھرا۔ پس ہر ایک کو یہ خیال دل میں لانے کا حق ہے کہ تھوڑے سے تغیر سے وہی قصہ انجیل میں بھی بطور سرقہ داخل کر دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ ضرور حضرت عیسی علیہ السلام ہندوستان میں آئے تھے اور حضرت عیسیٰ کی قبر سری نگر کشمیر میں موجود ہے جس کو ہم نے دلائل سے ثابت کیا ہے ۔ اس صورت میں ایسے معترضین کو اور بھی حق پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسا خیال کریں کہ اناجیل موجودہ در حقیقت بدھ مذہب کا ایک خاکہ ہے ۔ یہ شہادتیں اس قدرگزرچکی ہیں کہ اب مخفی نہیں ہو سکتیں ۔ ایک اور امر تعجب انگیز ہے کہ یوز آسف کی قدیم کتاب ( جس کی نسبت اکثر محقق یزوں کے بھی یہ خیالات ہیں کہ وہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے بھی پہلے شائع ہو چکی ہے ) جس کے ترجمے تمام ممالک یورپ میں ہو چکے ہیں ۔ انجیل کو اس کے اکثر مقامات سے ایسا تو ارد ہے کہ بہت سی عبارتیں باہم ملتی ہیں۔ اور جو انجیلوں میں بعض مثالیں موجود ہیں ۔ وہی مثالیں انہی الفاظ کے ساتھ اس کتاب میں بھی موجود ہیں ۔ اگر ایک شخص ایسا جاہل ہو کہ گو یا اندھا ہو وہ بھی اس کتاب کو دیکھ کر یقین کرے گا کہ انجیل اسی میں سے چرائی گئی ہے۔ بعض لوگوں کی یہ رائے ہے کہ یہ کتاب انگریزو