مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 242

مکتوبات احمد ۲۴۲ جلد اول معلومات بہت وسیع معلوم ہوتی ہیں اور آپ عربی اور فارسی اور اُردو میں عمدہ دخل رکھتے ہیں ۔ آپ کے اخلاق بھی بہت پسندیدہ اور بزرگا نہ ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کے اہلِ علم کی طرف سے جو ہم نے نظر کی تو ہماری رائے میں اس کام کے لئے مرزاغلام احمد صاحب قادیانی کے برابر اور کوئی نہیں جو مسیح موعود ہونے کا نہ صرف دعوی کرتے ہیں بلکہ بہت سے قطعی دلائل سے ثابت کر دیا ہے کہ یہ وہی ہیں جن کے دنیا میں آنے کا انجیل اور قرآن میں وعدہ ہے، جس کو دنیا کے مختلف حصوں میں تقریباً تمیں ہزار لوگوں نے تسلیم کر لیا ہے ۔ غرض اس وقت پنجاب اور ہندوستان کے تمام فاضل اور اہل علم عیسائیوں میں سے آپ کا وجود از بس غنیمت ہے اور مسلمانوں میں سے مرزا صاحب موصوفہ ہیں جو خدا کے انتخاب کردہ اور ممسوح ہیں ۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ایسا عمدہ موقع ہمیں پیش آ گیا ہے کہ ایک طرف تو آپ موجود ہیں اور دوسری طرف وہ جو خدا کا مسیح کہلاتا ہے ۔ اسی بنا پر ہم لوگوں کی طرف سے جن کے نام نیچے لکھے ہیں ، یہ درخواست ہے کہ چند مختلف فیہ مسائل میں آپ اور جناب مسیح موعود موصوف با ہم مباحثہ کریں اور حضرت مسیح موعود اس بات کو قبول فرماتے ہیں کہ پانچ مسائل میں باہم تحریری بحث ہو جائے ۔ اور وہ یہ ہے:۔ (1) ان دونوں نبیوں یعنی حضرت مسیح علیہ السلام اور جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کس نبی کی نسبت اس کی کتاب کی رو سے نیز دوسرے دلائل سے ثابت ہے کہ وہ کامل طور پر معصوم ہے۔ (۲) دونوں بزرگوار نبیوں علیہما السلام میں سے کون سا وہ نبی ہے جس کو اس کی کتاب وغیرہ دلائل کی رو سے زندہ رسول کہہ سکتے ہیں جو الہی طاقت اپنے اندر رکھتا ہے۔ (۳) ان دونوں بزرگوار علیہما السلام سے کونسا وہ نبی ہے جس کو اس کی آسمانی کتاب وغیرہ دلائل کی رو سے شفیع کہہ سکتے ہیں ۔ (۴) ان دونوں مذہبوں عیسائیت اور اسلام میں سے کونسا وہ مذہب ہے جس کو ہم زندہ مذہب کہہ سکتے ہیں ۔ (۵) ان دونوں تعلیموں ، انجیلی تعلیم اور قرآنی تعلیم میں سے کونسی وہ تعلیم ہے جس کو ہم اعلیٰ اور سچی تعلیم کہہ سکتے ہیں اور تعلیم میں تو حید اور تثلیث کی بحث بھی داخل ہے۔ ید الحکم ۷ ارجولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۲۰۱