مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 225
مکتوبات احمد ۲۲۵ جلد اول ہے اور ان کے نفس کو اس کی کچھ بھی حاجت نہیں ہوتی جیسا کہ ہم قانون قدرت کے آئینہ میں یہ بات حیوانات میں بھی پاتے ہیں ۔ مثلاً ایک مرغی صرف مصنوعی طور پر اپنی منقار دانہ پر اس غرض سے مارتی ہے کہ اپنے بچوں کو سکھا دے کہ اس طرح دانہ زمین پر سے اٹھانا چاہئے ۔ سو عملی نمونہ دکھانا کامل معلم کے لئے ضروری ہوتا ہے اور ہر یک فعل معلم کا اس کے دل کی حالت کا معیار نہیں ہوتا ما سوا اس کے ایک خوبصورت کو ، اگر اتفاقاً اس پر نظر پڑ جائے ، خوبصورت سمجھنا نفس الامر میں کوئی بات عیب ، سمجھنانفس کی نہیں ۔ ہاں بد خطرات کامل تقدس کے برخلاف ہیں لیکن جو شخص بد خطرات سے پہلے حفظ ما تقدم کے طور پر تقویٰ کی دقیق راہوں پر قدم مارے تا خطرات سے دور رہے۔ تو کیا ایسا عمل کمال کے منافی ہوگا ۔ یہ تعلیم قرآن شریف کی نہایت اعلیٰ ہے کہ اِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَكُمْ یعنی جس قدر کوئی تقوی کی دقیق راہیں اختیار کرے ۔ اسی قدر خدا تعالیٰ کے نزدیک اس کا زیادہ مرتبہ ہوتا ہے۔ پس بلا شبہ یہ نہایت اعلیٰ مرتبہ تقویٰ کا ہے کہ قبل از خطرات خطرات سے محفوظ رہنے کی تدبیر بطور حفظ ما تقدم کی جائے ۔ اور اگر یہ دعویٰ ہو کہ کاملین بہر حال خطرات سے محفوظ رہتے ہیں ۔ ان کو تدبیر کی حاجت نہیں تو یہ دعوی سراسر حماقت اور قصور معرفت کی وجہ سے ہوگا۔ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کسی معصیت اور نافرمانی پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی دلی عزیمت نہیں کر سکتے ۔ اور ایسا کرنا ان کے لئے کبائر ذنوب کی طرح ہے لیکن انسانی قومی اپنے خواص اس میں بھی دکھلا سکتے ہیں ۔ گو وہ بدخطرات پر قائم ہونے سے بکلی محفوظ رکھے گئے ہیں ۔ مثلاً اگر ایک نبی بشدت بھوکا ہو اور راہ میں وہ بعض درخت پھلوں سے ۔ بن لدے ہوئے پائے تو یہ تو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بغیر اجازت مالک پھلوں کی طرف ہاتھ لمبا نہیں کرے گا اور نہ دل میں اُن پھلوں کے توڑنے کے لئے عزیمت کرے گا لیکن یہ خیال اس کو آ سکتا ہے کہ اگر یہ پھل میری ملک میں سے ہوتے تو میں ان کو کھا سکتا ۔ اور یہ خیال کمال کے منافی نہیں ۔ اسکتا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ آپ کے خدا صاحب تھوڑی سی بھوک کے عذاب پر صبر نہ کر کے کیونکر انجیر کے درخت کی طرف دوڑے گئے ۔ کیا آپ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ درخت ان کا یا ان کے والد صاحب کا کی ملک میں سے تھا ؟ پس جو شخص بیگا نہ درخت کو دیکھ کر اپنے نفس پر غالب نہ آ سکا اور پیٹ کو بھینٹ ا الحجرات : ۱۴