مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 224
مکتوبات احمد ۲۲۴ جلد اول - اِمْرُأَتَهُ زَيْنَبَ وَهِيَ تَمُعَسُ مَنِيَّةً لَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ - اس حدیث میں سودہ کا کہیں ذکر نہیں اور معنے حدیث کے یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا۔ پھر اپنی بیوی زینب کے پاس آئے اور وہ چمڑہ کو مالش کر رہی تھی ۔ سو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حاجت پوری کی ۔ اب دیکھو کہ حدیث میں اس بات کا نام و نشان نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عورت کا حسن و جمال پسند آیا۔ بلکہ یہ بھی ذکر نہیں کہ وہ عورت جوان تھی یا بڑھی تھی ۔ اور یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی سے آ کر صحبت کی ۔ الفاظ حدیث صرف اس قدر ہیں کہ اس سے اپنی حاجت کو پورا پورا کیا اور لفظ قضى حاجتہ لغت عرب میں مباشرت سے خاص نہیں ہے۔ قضاء حاجت پاخانہ پھرنے کو بھی کہتے ہیں اور کئی اور معنوں کے لئے مستعمل ہوتا ہے ۔ یہ کہاں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی سے صحبت کی تھی ۔ ایک عام لفظ کسی خاص معنی میں محدود کر نا صریح شرارت ہے۔ علاوہ اس کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ بات مروی نہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھ کر اپنی بیوی سے صحبت کی ۔ اصل حقیقت صرف اس قدر ہے کہ مسلم میں جابر سے ایک حدیث ہے ۔ جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کی نظر میں خوبصورت معلوم ہو ۔ تو بہتر ہے کہ فی الفور گھر میں آ کر اپنی عورت سے صحبت کرلے تا کہ کوئی خطرہ بھی دل میں گذرنے نہ پائے اور بطور حفظ ما تقدم علاج ہو جائے۔ پس ممکن ہے کہ کسی صحابی نے اس حدیث کے سننے کے بعد دیکھا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی راہ میں کوئی جوان عورت سامنے آگئی اور پھر اس کو یہ بھی اطلاع ہو گئی ہو کہ اس وقت کے قریب ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاقاً اپنی بیوی سے صحبت کی تو اس نے اس اتفاقی امر پر اپنے اجتہاد سے اپنے گمان میں ایسا ہی سمجھ لیا ہو کہ اس حدیث کے موافق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی عمل کیا ۔ پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ وہ قول صحابی کا صحیح تھا تو اس سے کوئی بد نتیجہ نکالنا کسی بد اور خبیث آدمی کا کام ہے۔ بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اس بات پر بہت حریص ہوتے ہیں کہ ہر یک نیکی اور تقویٰ کے کام کو عملی نمونہ کے پیرایہ میں لوگوں کے دلوں میں بٹھا دیں۔ پس بسا اوقات وہ تنزل کے طور پر کوئی ایسا نیکی اور تقویٰ کا کام بھی کرتے ہیں جس میں محض عملی نمونہ دکھا نا منظور ہوتا