مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 215

مکتوبات احمد ۲۱۵ جلد اول میں ہوکر اور اس کے رنگ میں رنگین ہو کر اور اس کے ساتھ ہو کر لوگوں پر ظاہر کر دیتا ہے کہ وہ در حقیقت اس کی محبت میں کھویا گیا ہے ۔ محبت ایک عربی لفظ ہے اور اصل معنی اس کے پُر ہو جانا ہے۔ چنانچہ عرب میں یہ مثل مشہور ہے کہ تَحَبَّبَ الْحِمَارُ یعنی جب عربوں کو یہ کہنا منظور ہوتا ہے کہ گدھے کا پیٹ پانی سے بھر گیا تو کہتے ہیں کہ تَحَبَّبَ الْحِمَارُ اور جب یہ کہنا منظور ہوتا ہے کہ اونٹ نے اتنا پانی پیا کہ وہ پانی سے پُر ہو گیا تو کہتے ہیں شربت الابل حتى تحبّبت اور حَبّ جو دانہ کو کہتے ہیں وہ بھی اسی سے نکلا ہے جس سے یہ مطلب ہے کہ وہ پہلے دانہ کی تمام کیفیت سے بھر گیا اور اسی بناء پر احباب سونے کو بھی کہتے ہیں کیونکہ جو دوسرے سے بھر جائے گا وہ اپنے وجود کو کھو دے گا گویا سو جائے گا اور اپنے وجود کی کچھ حس اس کو باقی نہیں رہے گی پھر جبکہ محبت کی حقیقت یہ ہے تو ایسی انجیل جس کی یہ تعلیم ہے کہ شیطان سے بھی محبت کرو اور شیطانی گروہ سے بھی پیار کرو ۔ دوسرے لفظوں میں اُس کا ماحصل یہی نکلا کہ ان کی بدکاری میں تم بھی شریک ہو جاؤ۔ خوب تعلیم ہے ۔ ایسی تعلیم کیونکر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو سکتی ہے؟ بلکہ وہ تو انسان کو شیطان بنانا چاہتی ہے خدا انجیل کی اس تعلیم سے ہر ایک کو بچاوے۔ اگر یہ سوال ہو کہ جس حالت میں شیطان اور شیطانی رنگ و روپ والوں سے محبت کرنا حرام سے ہے ۔ تو کس قسم کا مخلق ان سے برتنا چاہئے ۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا پاک کلام قرآن شریف یہ ہدایت کرتا ہے کہ اُن پر کمال درجہ کی شفقت چاہیے جیسا کہ ایک رحیم دل آدمی جزا میوں اور اندھوں اور لولوں اور لنگڑوں وغیرہ دکھ والوں پر شفقت کرتا ہے اور شفقت اور محبت میں یہ فرق ہے کہ محبّ اپنے محبوب کے تمام قول اور فعل کو بنظر استحسان دیکھتا ہے اور رغبت رکھتا ہے کہ ایسے حالات اس میں بھی پیدا ہو جائیں ۔ مگر مشفق شخص مشفق علیہ کے حالات بنظرِ خوف وعبرت دیکھتا ہے اور اندیشہ کرتا ہے کہ شاید وہ شخص اس تباہ حال میں ہلاک نہ ہو جائے ۔ اور حقیقی مشفق کی یہ علامت ہے کہ وہ شخص مشفق علیہ سے ہمیشہ نرمی سے پیش نہیں آتا بلکہ اس کی نسبت محل اور موقعہ کے مناسب حال کار روائی کرتا ہے اور کبھی نرمی اور کبھی درشتی سے پیش آتا ہے۔ بعض وقت اس کو شربت پلاتا ہے اور بعض اوقات ایک حاذق ڈاکٹر کی طرح اس کا ہاتھ یا پیر کاٹنے میں اس کی زندگی دیکھتا ہے اور بعض اوقات اس کے کسی عضو کو چیرتا ہے اور بعض اوقات مرہم لگاتا ہے ۔ اگر تم ایک دن ایک بڑے