مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 214
مکتوبات احمد ۲۱۴ جلد اول قوت ہے۔ اور اس کی حقیقت یہ ہے ۔ کہ دل کا ایک چیز کو پسند کر کے اس کی طرف کھنچے جانا۔ اور جیسا کہ ہر یک چیز کے اصل خواص اس کے کمال کے وقت بدیہی طور پر محسوس ہوتے ہیں ۔ یہی محبت کا حال ہے ۔ کہ اس کے جو ہر بھی اُس وقت کھلے کھلے ظاہر ہوتے ہیں کہ جب اتم اور اکمل درجہ پر پہنچ جائے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اُشْرِبُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْعِجْلَ ، یعنی انہوں نے گوسالہ سے ایسی محبت کی کہ گویا ان کو گوسالہ شربت کی طرح پلا دیا گیا۔ در حقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے۔ تو گویا اسے پی لیتا ہے یا کھا لیتا ہے اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے اور جس قدر زیادہ محبت ہوتی ہے۔ اُسی قدر انسان بالطبع اپنے محبوب کی صفات کی طرف کھینچا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اسی کا روپ ہو جاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔ یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت ۔ کرتا ہے ۔ وہ ظلی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اُس نور کو حاصل کر لیتا ہے جو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے پس جبکہ محبت کی حقیقت یہ ہے۔ تو پھر کیونکر ایک سچی کتاب جو منجانب اللہ ہے۔ اجازت دے سکتی ہے۔ کہ تم شیطان سے وہ محبت کرو جو خدا سے کرنی چاہئے اور شیطان کے جانشینوں سے وہ پیار کرو جو رحمن کے جانشینوں سے کرنا چاہئے ۔ افسوس کہ پہلے تو انجیل کے باطل ہونے پر ہمارے پاس یہی ایک دلیل تھی کہ وہ ایک عاجز مشت خاک کو خدا بناتی ہے ۔ اب یہ دوسرے دلائل بھی پیدا ہو گئے کہ اس کی دوسری تعلیمیں بھی گندی ہیں۔ کیا یہ پاک تعلیم ہوسکتی ہے کہ شیطان سے ایسی ہی محبت کرو ۔ جیسی کہ خدا سے ۔ اور اگر یہ عذر کیا جائے کہ یسوع کے منہ سے سہواً یہ باتیں نکل گئیں کیونکہ وہ الہیات کے فلسفہ سے ناواقف تھا تو یہ عذر نکما اور فضول ہوگا کیونکہ اگر وہ ایسا ہی نا واقف تھا تو کیوں اس نے قوم کے مصلح ہونے کا دعوی کیا۔ کیا وہ بچہ تھا۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ محبت کی حقیقت بالالتزام اس بات کو چاہتی ہے کہ انسان سچے دل سے اپنے محبوب کے تمام شمائل اور اخلاق اور عبادات پسند کرے اور ان میں فنا ہونے کے لئے بدل و جان ساعی ہوتا اپنے محبوب میں ہو کر وہ زندگی پاوے جو محبوب کو حاصل ہے۔ سچی محبت کرنے والا اپنے محبوب میں فنا ہو جاتا ہے۔ اپنے محبوب کے گریبان سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور ایسی تصویر اس کی اپنے اندر کھینچتا ہے کہ گویا اسے پی جاتا ہے اور کھا جاتا ہے کہ وہ اس البقرة: ۹۴