مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 204 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 204

مکتوبات احمد ۲۰۴ جلد اول نہیں سمجھے جاتے ۔اب ہمارے یہ تمام جواب آپ کے سامنے ہیں اس کو چند منصفوں کو دکھلاؤ کہ کیا یہ عقل کے سامنے جواب ہیں یا نہیں؟ کیا آپ امید رکھتے ہیں کہ جو انجیل پر اعتراض ہم نے کئے ہیں ۔ آپ ان کا کچھ جواب دے سکیں گے؟ ہرگز ممکن نہیں ۔ وہ دن آپ پر کبھی نہیں آئے گا کہ ان اعتراضات کے جواب سے سبکدوش ہوسکیں ۔ پھر آپ کا ایک یہ وسوسہ ہے کہ کامل گناہ کا بیان انجیل میں ہی ہے۔ لیکن اگر آپ غور کریں ۔ تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انجیل تقویٰ کی راہوں کو کامل طور پر بیان نہیں کر سکی ۔ اور نہ انجیل نے ایسا دعویٰ کیا ۔ مگر قرآن شریف نے تو اپنے نزول کی علت غائی ہی یہ قرار دی ہے کہ تقوی کی راہوں کو سکھائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ لا یعنی یہ کتاب اس غرض سے اتری ہے کہ تا جو لوگ گناہ سے پر ہیز کرتے ہیں ۔ ان کو باریک سے باریک گناہوں پر بھی اطلاع دی جائے ۔ تا وہ ان برے کاموں سے بھی پر ہیز کریں جو ہر یک آنکھ کو نظر نہیں آتے ۔ بلکہ فقط معرفت کی خورد بین سے نظر آسکتے ہیں ۔ اور موٹی نگاہیں ان کے دیکھنے سے خطا کر جاتی ہیں ۔ مثلاً آپ کے یسوع صاحب کا قول متی نے یہ لکھا ہے کہ میں تمہیں کہتا ہوں کہ جو کوئی شہوت سے کسی عورت پر نگاہ کرے۔ وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کر چکا ۔ لیکن قرآن کی یہ تعلیم ہے کہ نہ تو شہوت سے اور نہ بغیر شہوت کے بیگانہ عورت کے منہ پر ہرگز نظر نہ ڈال ۔ اور ان کی باتیں مت سن ۔ اور ان کی آواز مت سن ۔ اور ان کے حسن کے قصے مت سُن ۔ کہ ان امور سے پر ہیز کرنا تجھے ٹھوکر کھانے سے بچائے گا۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ " یعنی مومنوں کو کہہ دے کہ نامحرم کو دیکھنے سے اپنی آنکھوں کو بند رکھیں ۔ اور اپنے کانوں اور ستر گاہوں کی حفاظت کریں۔ یعنی کان کو بھی ان کی نرم باتوں اور ان کی خوبصورتی کے قصوں سے بچاویں کہ یہ سب طریق ٹھو کر کھانے کے ہیں ۔ اب اگر بے ایمانی کے زہر دل میں نہیں تو ایسی تعلیم سے یسوع کی تعلیم کا مقابلہ کرو۔ اور پھر نتائج پر بھی نظر ڈالو۔ یسوع کی تعلیم نے عام آزادی کی اجازت دے کر اور تمام ضروری شرائط کو نظر انداز کر کے تمام یورپ کو ہلاک کر دیا۔ یہاں تک کہ ان سب میں خنزیروں اور کتوں کی طرح فسق و فجور پھیلا ۔ البقرة: ٣ النور: ٣١