مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 203
مکتوبات احمد ۲۰۳ جلد اول ته قرآنی ہے جو خدا تعالیٰ کی صفات رحمت اور مغفرت کے بالکل مطابق ہے۔ لیکن آپ کے اقرار سے یہ معلوم ہوا کہ یہ تعلیم انجیل کی نہیں ہے۔ اور انجیل کی رو سے یہ فتوی ہے کہ اگر کوئی عیسائی کسی فوق الطاقت رکھ کے وقت عیسائی دین کی گواہی سے زبان سے انکار کرے تو وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہو گیا۔ اور اب انجیل اس کو اپنی جماعت میں جگہ نہیں دے گی ۔ اور اس کے لئے کوئی تو یہ نہیں ۔ شا باش ! شاباش! آج تم نے اپنے ہاتھ سے مہر لگا دی کہ یہ انجیل جو تمہارے ہاتھ میں ہے ایک جھوٹی انجیل ہے۔ خیر اب ہمارے وار سے بھی خالی نہ جاؤ ۔ اور جو نیچے لکھتا ہوں ۔ اس کا جواب دو۔ ورنہ اگر کچھ دیا ہے تو عیسائی مذہب سے تو بہ کرو۔ ۔ اعتراض یہ ہے کہ جس حالت میں بقول آپ کے وہ تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتی ۔ کہ جو ایمان کے چھپانے والے کو اس کی تو بہ اور اعمال صالحہ اور صبر اور ثبات کے بعد معافی کا وعدہ دے اور رحمت الہی سے رڈ نہ کرے۔ تو پھر انجیل کی تعلیم کس قدر سچائی سے دور ہوگی ۔ جس نے پطرس کو باوجود اس کی نہایت مکر وہ بداعمالی اور دروغ گوئی اور سخت انکار اور جھوٹی قسم اور مسیح پر لعنت بھیجنے اورایمان کو پوشیدہ کرنے کے پھر قبول کر لیا۔ آپ کا اعتراض تو صرف اتنا تھا کہ قرآن نے ایسے لوگوں کو بھی اسلام سے رد نہیں کیا جو کسی خوف سے اسلام کا زبان سے انکار کر دیں مگر انجیل نے تو اس بارے میں حد کر دی کہ ایسے شخص کو بھی پھر قبول کر لیا۔ جس نے نہ صرف ایمان کو پوشیدہ کیا بلکہ صاف انکار کیا اور اپنے جھوٹ کو سچ ظاہر کرنے کے لئے قسم کھائی ۔ بلکہ یسوع صاحب پر لعنت بھی بھیجی ۔ اور کو کے لئے قسم بلکہ اگر کہو کہ انجیل کی تعلیم نے اس کو قبول نہیں کیا بلکہ وہ اب تک مردود اور ایمان سے خارج ہے تو اس عقیدہ کا اشتہار دے دو ۔ اب کہو قرآن پر اعتراض کرنے سے کچھ سزا پائی یا نہیں؟ آپ اپنے خط میں لکھتے ہیں ۔ کہ کسی امر کا جواب دینا اور بات ہے مگر معقول طور پر جواب دینا اور بات ہے ۔ اب بتاؤ معقولی طور پر یہ جواب ہیں یا نہیں اور ابھی وقت آیا یا نہیں کہ ہم لعنة الله علی الکاذبین کہہ دیں؟ آپ نے یہ بھی خط میں لکھا ہے کہ محمدی لوگ جواب تو دیتے ہیں مگر وہ عقل کے سامنے جواب نوٹ : گواہی کا چھپانا اور دل میں رکھنا تو در کنار عیسائی تو انجیل کے مرتدوں کو بھی ایمان لانے پر پھر واپس لے لیتے ہیں ۔ منہ