مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 196

مکتوبات احمد ۱۹۶ جلد اول ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اُٹھاویں۔ اب اے نا خدا ترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لئے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہے۔ اور اگر ایسی تاکید ہوتی تو پطرس اول درجہ کا حواری کیوں جھوٹ بولتا اور کیوں جھوٹی قسم کھا کر اور حضرت مسیح پر لعنت بھیج کر صاف منکر ہو جاتا کہ میں اس کو نہیں جانتا ۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم محض راست گوئی کی وجہ سے شہید ہوتے رہے اور الہی گواہی کو انہوں نے ہرگز مخفی نہ رکھا گو ان کے خون سے زمین سرخ ہوگئی مگر انجیل سے ثابت ہے کہ خود آپ کے یسوع صاحب ہی اس شہادت کو مخفی رکھتے ہیں ۔ جس کا ظاہر کرنا ان پر واجب تھا اور وہ ایمان بھی دکھلا نہ سکے ۔ جو مکہ میں مصائب کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے دکھلایا تھا۔ امید کہ آپ اس سے منکر نہیں ہوں گے اور اگر خیانت کے طور پر منکر بھی ہو گئے تو وہ تمام مقام ہم دکھلا دیں گے ۔ بالفعل صرف نمونہ کے طور پر ثبوت میں لکھا گیا۔ اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے ۔ مگر یہ آپ کو اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی لگی ہے اور اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہرگز اجازت نہیں ا۔ ۔ بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ اِن قُتِلْتَ وَاحْرِقْتَ یعنی سچ کومت چھوڑ اگر چہ تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے ۔ پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور سیچ مت چھوڑو ۔ اگر چہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگر چہ تم جلائے جاؤ اور قتل کئے جاؤ ۔ مگر سچ ہی بولو۔ تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو ذ وہ قابل سماعت نہیں ہوگی ۔ کیونکہ ہم لوگ اسی حدیث کو قبول کرتے ہیں ۔ جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو ۔ ہاں بعض احادیث میں تو ریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ۔ اور اسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے۔ کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے۔ مگر توریہ جو در حقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہی اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا دیکھومتی ۱۶ باب آیت ۲۰ ہے۔