مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 195
مکتوبات احمد ۱۹۵ مکتوب نمبر ۱۰ جلد اول بقیه اعتراضات پادری فتح مسیح صاحب جس کو اُنہوں نے دوسرے خط میں ظاہر کیا ایک یہ اعتراض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپا لینے کے واسطے قرآن میں صاف حکم دے دیا ہے مگر انجیل نے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کیلئے قرآن شریف میں تاکید ہے۔ میں ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو۔ بیس برس کے قریب عرصہ ہو گیا کہ میں نے اسی بارہ میں ایک اشتہار دیا تھا اور قرآنی آیات لکھ کر اور عیسائیوں وغیرہ کو ایک رقم کثیر بطور انعام دینا کر کے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ جسے ان آیات میں راست گوئی کی تاکید ہے ۔ اگر کوئی عیسائی اس زور و شور کی تاکید انجیل میں سے نکال کر دکھلاوے تو اس قدرا انعام اس کو دیا جائے گا ۔ مگر پادری صاحبان اب تک ایسے چپ رہے کہ گویا ان میں جان نہیں ۔ اب مدت کے بعد گا۔ فتح مسیح صاحب کفن میں سے بولے شاید بوجہ امتداد زمانہ ہمارا وہ اشتہار ان کو یاد نہیں رہا۔ پادری صاحب آپ خس و خاشاک کو سونا بنانا چاہتے ہیں۔ اور سونے کی کان سے منہ مروڑ کر ادھر اُدھر بھاگتے ہیں ۔ اگر یہ بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے ۔ قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برا برٹھیرایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو اللہ ادا کرو اگر چہ تمہاری جانوں پر ۳۱ الحج: ٣١ النساء : ١٣٦