مکتوبات احمد (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 694

مکتوبات احمد (جلد اوّل) — Page 187

مکتوبات احمد ۱۸۷ جلد اول جب ہم حضرت مسیح اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا اس بات میں بھی مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور کس قدر ان کے ربانی رعب یا الہی تائید نے اثر دکھایا تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح میں بمقابلہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی۔ جناب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے جب بادشاہوں کے نام فرمان جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا کہ میں تو عیسائیوں کے پنجہ میں مبتلا ہوں ۔ کاش اگر مجھے اس جگہ سے نکلنے کی گنجائش ہوتی تو میں اپنا فخر سمجھتا کہ خدمت میں حاضر ہو جاؤں اور غلاموں کی طرح جناب مقدس کے پاؤں دھویا کروں ۔ مگر ایک خبیث اور پلید دل بادشاہ کسری ایران کے فرمانروا نے غصہ میں آ کر آپ کے پکڑنے کیلئے سپاہی بھیج دیئے ۔ وہ شام کے قریب پہنچے اور کہا کہ ہمیں گرفتاری کا حکم ہے ۔ آپ نے اس بیہودہ بات سے اعراض کر کے فرمایا تم اسلام قبول کرو ۔ اس وقت آپ صرف دو چار اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھے تھے مگر ربانی رعب سے وہ دونوں بید کی طرح کانپ رہے تھے۔ آخر انہوں نے کہا کہ ہمارے خداوند کے حکم یعنی گرفتاری کی نسبت جناب عالی کا کیا جواب ہے تو ہم جواب ہی لے جائیں ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا کل تمہیں جواب ملے گا ۔ صبح کو جو وہ حاضر ہوئے تو آنجناب نے فرمایا کہ وہ جسے تم خداوند ، خداوند کہتے ہو وہ خدا وند نہیں ہے، خداوند وہ ہے جس پر موت اور فنا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا۔ میرا طاری نہیں ہوتی مگر تمہارا خداوند آج رات کو مارا گیا۔ میرے بچے خداوند نے اسی کے بیٹے شیرویہ کو اس پر مسلط کر دیا۔ سو وہ آج رات اس کے ہاتھ سے قتل ہو گیا اور یہی جواب ہے۔ یہ بڑا معجزہ تھا۔ اس کو دیکھ کر اس ملک کے ہزار ہا لوگ ایمان لائے ۔ کیونکہ اسی رات در حقیقت خسرو پرویز یعنی کسری مارا گیا تھا ۔ اور یا د رکھنا چاہئے کہ یہ بیان انجیلوں کی بے سروپا اور بے اصل باتوں کی طرح نہیں بلکہ احادیث صحیحہ اور تاریخی ثبوت اور مخالفوں کے اقرار سے ثابت ہے۔ چنانچہ ڈیونپورٹ کے صاحب نے بھی اس قصہ کو اپنی کتاب میں لکھا ہے لیکن اس وقت کے بادشاہوں کے سامنے حضرت مسیح کی جو عزت تھی وہ آپ پر پوشیدہ نہیں ۔ وہ اوراق شاید اب تک انجیل میں موجود ہوں گے جن میں لکھا ہے کہ ہیرودیس نے حضرت مسیح کو مجرموں کی طرح پلاطوس کی JOHN DEVENPORT L